Urdu book · خدا اور انسان

دو قسم کی روحیں

Urdu book, p. 22

By Maulana Wahiduddin Khan

دو قسم کی روحیں قرآن کی سورہ نمبر ۹۱ میں ارشاد ہوا ہے : قد افلح من زکها وقد خاب من دشہارہ (وہ شخص کامیاب رہا جس نے اپنے آپ کو پاک کیا اور وہ شخص برباد ہو گیا جس نے اپنے آپ کو گندا کیا ) موجودہ زندگی آخرت سے پہلے کا ایک امتحانی موقع ہے۔ جو شخص یہاں سے نیک اور ستھری روح لے کر آخرت کی دنیا میں پہنچے گا وہ وہاں جنت کی پرمسرت فضاؤں میں بسایا جائے گا اور جو شخص یہاں سے برائیوں میں لپٹی ہوئی روح لے کر آخرت کی دنیا میں جائے گا اس کو وہاں جہنم کے پر عذاب ماحول میں دھکیل دیا جائے گا۔ موجودہ دنیا گویا خدا کی نرسری ہے۔ نرسری میں مختلف قسم کے پودے اگائے جاتے ہیں ۔ زمین میں روئیدگی کی قوت بہت زیادہ ہے۔ چنانچہ یہاں طرح طرح کے پودے اگ آتے ہیں۔ مالی ان سب کی جانچ کرتا ہے۔ جو پودے غیر مطلوب پودے ہیں ان کو وہ کاٹ کر پھینک دیتا ہے ۔ اور جو پودے اس کے مطلوب پودے ہیں ان کو اہتمام سے نکال کر لے جایا جاتا ہے تاکہ کسی باغ میں ان کو پھولنے پھولنے کے لئے نصب کر دیا جائے۔ موجودہ دنیا میں آدمی کے لئے بیک وقت دونوں مواقع کھلے ہوئے ہیں۔ وہ چاہے تو اپنی روح کو پاک کرے اور چاہے تو گندا کرتا رہے۔ کوئی وہ شخص ہے جو اللہ کی بڑائی کو مان کر اس کے آگے اپنے آپ کو جھکا دیتا ہے۔ اس کے سامنے جب کوئی حق آتا ہے تو وہ بے جھجک اس کا اعتراف کر لیتا ہے۔ لوگوں سے معاملہ کرتے ہوئے وہ ہمیشہ خیر خواہی اور انصاف کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ دوستی ہو یا دشمنی ہر حال میں وہ خدا کی مرضی پر چلتا ہے نہ کہ اپنے نفس کی مرضی پر۔ یہ وہ شخص ہے جس نے اپنی روح کو پاک کیا۔ اس کو اس کا خدا جنت کی پُر بہار دنیا میں بسائے گا۔ دوسرا آدمی وہ ہے جو خود اپنی برائی میں گم رہتا ہے۔ اس کے سامنے حق آتا ہے تو وہ اس کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ معاملات میں وہ سرکشی اور بے انصافی کا طریقہ اختیار کرتا ہے ۔ وہ اپنی مرضی پر چلتا ہے نہ کہ خدا کی مرضی پر۔ یہی وہ آدمی ہے جس نے اپنی روح کو گندا کیا۔ کائنات کا مالک اس کو اپنے پڑدس کے لئے قبول نہیں کرے گا۔ وہ اس کو جہنم میں دھکیل دے گا تاکہ وہ ابدی طور پر اپنے جرم کی سزا بھگتتا رہے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page