شناختى كارڈ کے بغیر
Urdu book, p. 28
By Maulana Wahiduddin Khan
شناختی کارڈ کے بغیر دیہات کا ایک لڑکا شہر آیا۔ سڑک پر چلتے ہوئے وہ ایک اسکول کی عمارت کے سامنے سے گزرا۔ یہ اسکول کے جشن کا دن تھا۔ سیکڑوں لڑکے ایک کھڑکی کے سامنے لائن لگائے ہوئے تھے۔ دیہاتی لڑکے نے قریب جا کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ اس کھڑکی پر مٹھائی تقسیم ہورہی ہے۔ اور ہر ایک اس کو لے کر باہر آ رہا ہے۔ دیہاتی لڑکا بھی لائن میں شامل ہو کر کھڑا ہو گیا۔ وہ لائن کے ساتھ آگے بڑھتا رہا۔ وہ سمجھتا تھا کہ جب میری باری آئے گی تو مٹھائی کا پیکٹ اسی طرح میرے ہاتھ میں بھی ہوگا جس طرح وہ دوسروں کے ہاتھ میں دکھائی دے رہا ہے۔ لائن ایک کے بعد ایک آگے بڑھتی رہی۔ یہاں تک کہ دیہاتی لڑکا کھڑکی کے سامنے پہنچ گیا۔ اس نے خوش خوش اپنا ہاتھ کھڑکی کی طرف بڑھایا۔ اتنے میں کھڑکی کے پیچھے سے آواز آئی تمھارا شناختی کارڈ! لڑکے کے پاس کوئی کارڈ نہ تھا۔ وہ کارڈ پیش نہ کر سکا۔ چنانچہ وہ کھڑکی سے ہٹا دیا گیا۔ اب لڑکے کو معلوم ہوا کہ یہ مٹھائی ان لوگوں کو تقسیم ہورہی تھی جو سال بھر اسکول کے طالب علم تھے نہ کہ کسی ایسے شخص کے لیے تو اچانک کہیں سے آ کر کھڑکی پر کھڑا ہو گیا۔ ایسا ہی کچھ معاملہ آخرت میں پیش آنے والا ہے۔ آخرت کا دن خدائی فیصلہ کا دن ہے۔ اس دن سارے لوگ خدا کے یہاں جمع کئے جائیں گے۔ وہاں لوگوں کو انعامات تقسیم ہورہے ہوں گے۔ مگر پانے والے صرف وہ ہوں گے جنھوں نے اس دن کے آنے سے پہلے پانے کا استحقاق پیدا کیا ہو، جو اپنا "شناختی کارڈ" لے کر وہاں حاضر ہوئے ہوں ۔ وہ وقت آنے والا ہے جب کسی آنکھ کے لئے سب سے زیادہ پر کیف منظر یہ ہوگا کہ وہ اپنے رب کو دیکھے۔ کسی ہاتھ کے لئے سب سے زیادہ لذیذ تجربہ یہ ہوگا کہ وہ اپنے رب کو چھوئے۔ کسی سر کے لئے سب سے زیادہ عزت اور فخر کی بات یہ ہوگی کہ وہ اس کو رب العالمین کے آگے جھکا دے۔ مگر یہ سب کچھ صرف ان لوگوں کے لئے ہوگا جنھوں نے اس دن کے آنے سے پہلے اپنے کو خدا کی نظر عنایت کا مستحق ثابت کیا ہو۔ بقیہ لوگوں کے لئے ان کی غفلت ان کے اور ان کے خدا کے درمیان حائل ہو جائے گی۔ وہ خدا کی دنیا میں پہنچ کر بھی خدا کو نہ دیکھیں گے۔ وہ پانے والے دن بھی اپنے لئے کچھ پانے سے محروم رہیں گے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader