Urdu book · خدا اور انسان

دونوں ایک سطح پر

Urdu book, p. 32

By Maulana Wahiduddin Khan

دونوں ایک سطح پر ۳۱ مارچ ۱۹۸۱ء کو تمام دنیا کے اخبارات کی پہلی سرخی یہ تھی ” صدر امریکہ پر قاتلانہ حملہ“ ۔ ایک نوجوان نے خودکارگن سے صدر رونالڈریگن پر حملہ کیا اور دو سیکنڈ میں چھ فائر کئے ۔ ایک گولی صدر کے سینہ کو چھید کر ان کے پھیپھڑے میں لگی۔ اسپتال تک پہنچتے پہنچتے ان کے جسم کا آدھا خون بہہ چکا تھا۔ مگر فوری طبی مدد کارگر ثابت ہوئی اور رونالڈ ریگن کی جان بچ گئی ۔ رونالڈ ریگن اس سے پہلے ایک فلم ایکٹر تھے۔ فلم کی دنیا میں وہ کوئی ممتاز مقام حاصل نہ کر سکے ۔ اس کے بعد انھوں نے سیاست میں حصہ لینا شروع کیا اور بالآخر ۱۹۸۰ء کے الیکشن میں امریکہ کے صدر منتخب ہو گئے ۔ گولی لگنے کے بعد صدر ریگن نے واشنگٹن کے اسپتال میں ڈاکٹروں اور نرسوں سے بات کرتے ہوئے کہا: If I'd got this much attention in Hollywood, I would never have left اگر میں ہالی ووڈ (فلمی دنیا) میں اتنی زیادہ توجہ کا مرکز بنوتا تو میں فلمی دنیا کو کبھی نہ چھوڑتا (ہندوستان ٹائمز یکم اپریل ۱۹۸۱ء) دوسری طرف نوجوان حملہ آور جان ہنکلے (John Hinckley) کی رو داد کے ذیل میں آیا ہے کہ اس کو نوجوان فلم ایکٹریس جاڈی فاسٹر (Jodie Foster) سے محبت ہوگئی تھی۔ وہ اس کو خطوط لکھتار ہاگرا مس فاسٹر نے اس کی طرف کوئی توجہ نہ کی۔ بالآخر اس نے حملہ سے ایک دن پہلے مذکورہ ایکٹریس کو خط لکھا جس میں یہ فقرہ تھا Now you'll know who I am (H.T. 2-4-1981) اب تم جان لوگی کہ میں کون ہوں ۔ اس خط کے اگلے دن اس نے صدر امریکہ پر قاتلانہ حملہ کیا۔ اس کے بعد ایک گمنام نوجوان اچانک ساری دنیا کے اخباروں کی شاہ سرخی بنا ہوا تھا۔ ریڈیو اور ٹیلی وژن کی خبروں میں اس نے پہلا مقام حاصل کر لیا۔ صرف ایک بندوق کی بلبی دبا کر اس نے وہ شہرت حاصل کرلی جو بے شمار لوگوں کو ساری عمر کام کرنے کے بعد بھی نہیں ملتی ۔ ایک آدمی بظاہر مجرم ہو اور دوسرا بظاہر بے قصور مگر دونوں شہرت کے طالب ہوں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ دونوں کے جینے کی سطح ایک ہے۔ دنیا کا قانون لوگوں سے ان کے ظاہر کے اعتبار سے معاملہ کرتا ہے، آخرت وہ مقام ہے جہاں لوگوں سے ان کے باطن کے اعتبار سے معاملہ کیا جائے گا۔ ایک شخص نام و نمود کے لئے دین کا علم بردار بنے، دوسرا شخص نام ونمود کے لئے لیڈی کرے تو دین دار کا انجام بھی وہی ہوگا جو خود پسند لیڈروں کا خدا کے یہاں ہونے والا ہے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page