الفاظ کم ہو جاتے ہیں
Urdu book, p. 43
By Maulana Wahiduddin Khan
الفاظ کم ہو جاتے ہیں مسٹرلی زی براؤن شمالی انگلستان کے ایک ٹرک ڈرائیور ہیں۔ وہ اولاد سے محروم تھے۔ ان کی بیوی کے جسمانی نظام میں بعض حیاتیاتی فرق کی وجہ سے دونوں کا مادہ حیات رحم مادر میں یک جا نہیں ہوتا تھا۔ وہ اولاد کی طرف سے مایوس ہو چکے تھے کہ عین وقت پر سائنس نے ان کی مدد کی۔ لندن کے ڈاکٹر پیٹرک اسٹیپٹو جو برسہا برس سے اس میدان میں تجربہ کر رہے تھے انھوں نے اپنی لیبوریٹری میں لزلی براؤن کا مادہ تولید (اسپرم) نکالا اور مسز براؤن کے جسم سے ایک بیضہ لیا۔ دونوں کو انھوں نے ایک خصوصی قسم کے ٹسٹ ٹیوب میں رکھا۔ قدرتی قانون کے تحت وہ دونوں مل کر زر خیز ہو گئے ۔ چار روز کے بعد ڈاکٹر نے اس کو مصنوعی طور پر رحم مادر میں پہنچا دیا۔ اب رحم مادر میں اس "بچہ" کی پرورش ہونے لگی۔ تجربہ کامیاب رہا۔ اگست ۱۹۷۸ء میں تاریخ کا پہلا " ٹسٹ ٹیوب بے بی" وجود میں آگیا۔ اس پورے عمل کی تصویر لی جاتی رہی ، اور پیدائش کے بعد اس کو مکمل طور پر ٹیلی وژن پر دکھایا گیا۔ ٹیوب بے بی (لوئی براؤن) کے باپ سے اس پورے واقعہ پر تبصرہ کرنے کے لئے کہا گیا تو اس نے کہا "بیوٹی فل"، یعنی بے حد حسین ۔ اس ایک لفظ کے سوا وہ کچھ اور نہ کہہ سکا۔ غم کی گھٹنا خوشی سے زیادہ بڑی گھٹنا ہوتی ہے۔ انڈین نیوی کے ایک افسر کی اہلیہ مسز ادما چوپڑہ کو ۲۶ اگست ۱۹۷۸ء کو جب معلوم ہوا کہ ان کے دونوں بچے گیتا (۱۷) اور سنجے (۱۵) کونسی دہلی میں دھیانہ طور پر کسی نے قتل کر دیا ہے تو اس کے بعد ان کا یہ حال ہوا کہ سات گھنٹے تک وہ ایک لفظ نہ بول سکیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ تاثر جتنا شدید ہو الفاظ اتنا ہی کم ہو جاتے ہیں۔ بے حد خوشی ہو تب بھی آدمی زیادہ بول نہیں پاتا اور بے حد غم ہو تب بھی زیادہ بولنا آدمی کے لئے ممکن نہیں رہتا۔ جو لوگ دین وملت کے "غم" میں ہر روز الفاظ کے دریا بہاتے رہتے ہیں وہ صرف اس بات کا ثبوت دے رہے ہیں کہ دین وملت کے غم میں وہ سب سے پیچھے ہیں۔ جو شخص درد غم میں مبتلا ہو اس کو تو چپ لگ جاتی ہے نہ یہ کہ وہ لفظی اکھاڑوں میں لسانی پہلوانی کے کرتب دکھانے لگے۔ حقیقت یہ ہے کہ لوگوں نے خدا کو نہ اس کے منعم کے روپ میں پایا ہے اور نہ منتقم کے روپ میں ۔ مگر وہ دونوں میں سے کسی روپ میں بھی خدا کو پا لیتے تو یہ صورت باقی نہ رہتی کہ ہر آدمی ایسے الفاظ کا بھنڈار بنا ہوا ہے جو کسی طرح ختم ہونے میں نہیں آتے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader