ثواب
Urdu book, p. 45
By Maulana Wahiduddin Khan
ثواب جن لوگوں کو اللہ تعالی نے پیسہ دیا ہے وہ عام طور پر ایسا کرتے ہیں کہ اپنے ملازموں اور ماتحت کارکنوں کو تو صرف واجبی تنخواہ یا اجرت دیتے ہیں ۔ دوسری طرف کانفرنس یا ریلیف فنڈ یا مشہور اداروں کو بڑی بڑی رقمیں دے کر خوش ہوتے ہیں ۔ اگر ان سے پوچھے کہ آپ ایسا کیوں کرتے ہیں تو وہ کہیں گے کہ ملازم یا کارکن کو جو رقم دی جاتی ہے وہ تو ان کے کام کی اجرت ہوتی ہے ۔ اس پر ہم کو ثواب نہیں ملے گا۔ انھوں نے ہماری خدمت کی اور ہم نے ان کو معاوضہ دے دیا ۔ اس پر ثواب کیسا۔ یہ تو دونوں طرف سے معاملہ برابر ہوگیا۔ اس کے برعکس اداروں اور فلاحی کاموں میں جو رقم دی جاتی ہے ان کے متعلق یقینی ہے کہ ان پر ثواب ملے گا۔ مگر اس کی تہ میں اصل بات کچھ اور ہے اور یہ جواب محض اصل بات پر پردہ ڈالنے کی ایک کوشش ہے۔ اصل یہ ہے کہ ہر آدمی کے دل میں یہ چھپی ہوئی خواہش موجود ہے کہ وہ جو کچھ دے اس کا معاوضہ عنہ اس کو اسی دنیا میں ملے ۔ غریب آدمی یہ معاوضہ پیسہ کی صورت میں چاہتا ہے ۔ مگر جن لوگوں کے پاس کافی پیسہ آ جاتا ہے ان کو جس معاوضہ کی تمنا ہوتی ہے وہ سماجی حیثیت (سوشل اسٹیٹس) ہے۔ یہی وہ چھپی ہوئی خواہش ہے جو اس قسم کے لوگوں کے انفاق کا رخ بڑی بڑی قابل ذکر مددوں کی طرف کر دیتی ہے۔ ظاہر ہے کہ غریب ملازم یا کارکن یہ معاوضہ دینے کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس کے پاس نہ اخبار ہوتا ہے نہ اسٹیج ۔ اس کے پاس نہ اونچی بلڈنگوں والے ادارے ہیں اور نہ استقبال کرنے والا حلقہ۔ مگر ایک شخص جب کسی مشہور ادارہ یا کسی ”عظیم الشان“ ملی مہم میں رقم دیتا ہے تو اس کو امید رہتی ہے کہ اس کو شان دار معاوضہ ملے گا ــــــــــ جلسوں کی صدارت، عوامی مواقع پر نمایاں نشست، اداروں میں پرزور استقبال سماجی حیثیت میں اضافہ، اخباروں میں نام چھپنا اور بڑے بڑے لوگوں کی صف میں جگہ ملنا، وغیرہ ثواب کا تعلق نیت سے ہے نہ کہ قابل تذکرہ مددوں سے ۔ ثواب حقیقتاً اس عمل میں ہے جو صرف اللہ کی رضا کے لئے کیا گیا ہو۔ ثواب یہ ہے کہ اللہ کی خاطر ایسی مددوں میں دیا جائے جو لوگوں کو دکھائی نہیں دیتیں۔ ان مواقع پر خرچ کیا جائے جہاں ہر قسم کے دوسرے محرکات حذف ہوجاتے ہیں ۔ جس انفاق کا فائدہ اسی دنیا میں وصول کر لیا گیا ہو اس کا فائدہ کسی کو آخرت میں ملے گا تو کیوں ملے گا۔ لوگ دکھائی دینے والے مقامات پر انفاق کر رہے ہیں حالاں کہ خدا ان کے انفاق کو قبول کرنے کے لئے اس مقام پر کھڑا ہوا ہے جو ظاہر پرست انسانوں کو دکھائی نہیں دیتا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader