Urdu book · خدا اور انسان

یہ انسان

Urdu book, p. 48

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ انسان! حضرت مسیح کے وعظوں میں سے ایک وعظ میں داعی اور مدعو کی تمثیل ہے۔ یہاں ہم اس تمثیل کا عربی اور اردو ترجمہ نقل کرتے ہیں: ومن اشبه هذا الجیل۔ يُشبِہ اولادًا پس اس زمانے کے لوگوں کو میں کس سے تشبیہہ دوں جالسين فى الاسواق ينادون الى اصحابهم وہ ان لڑکوں کی مانند ہیں جو بازاروں میں بیٹھے ہوئے ویقولون: زمزنا لكم فما رقصتم دندبنا اپنے ساتھیوں کو پکار کر کہتے ہیں۔ ہم نے تمھارے لئے لكم فما بكيتم (متی ۱۱: ۱۶) بانسری بجائی اور تم نہ ناچے ۔ ہم نے ماتم کیا اور تم نہیں روئے خدا کا داعی خدا کے سمندر میں نہاتا ہے۔ اس طرح اس کے لئے ممکن ہوتا ہے کہ وہ خدا کی دنیا میں خدا کے گیت گائے۔ وہ فطرت کے ساز پر خدا کے ابدی نغمے چھیڑے۔ ان نغمات میں ایک طرف خدا کے حسن و کمال کی تجلیاں ہوتی ہیں جن کا تقاضا ہوتا ہے کہ ان کو سن کر آدمی رقص کر اٹھے ۔ دوسری طرف ان نغمات میں خدا کی پکی تنبیہات ہوتی ہیں جو ایک حساس انسان کو تڑپا کر اسے رلا دیں۔ داعی خدا کے جمال و جلال کا مظہر ہوتا ہے۔ مگر انسان اتنا غافل ہے کہ وہ ان چیزوں سے کوئی اثر نہیں لیتا۔ داعی کے کلام کی صورت میں خدا بالکل اس کے قریب آجاتا ہے۔ مگر اس وقت بھی وہ خدا کو نہیں پاتا۔ اس میں نہ حمد خداوندی کی کیفیات جاگتیں اور نہ خوف خدا سے اس کی آنکھیں تر ہوتیں ۔ وہ نازک ترین پیغامات کو بھی پتھر کی طرح سنتا ہے نہ کہ اس انسان کی طرح جس کو خدا نے وہ عقل دی ہے جو باتوں کی گہرائی کو پالے اور وہ دل دیا ہے جو درد سے تڑپ اٹھے۔ خدا کی طرف سے ایک پکارنے والے کا وجود میں آنا کسی مشین پر بجنے والے ریکارڈ کا وجود میں آنا نہیں ہے۔ یہ روح انسانی میں ایک ایسے انقلاب کا برپا ہونا ہے جس کی شدت آتش فشاں پہاڑوں سے بھی زیادہ سخت ہوتی ہے۔ داعی کا بولنا اپنے جگر کے ٹکڑوں کو باہر لانا ہوتا ہے۔ اس کا لکھنا اپنے خون کو سیاہی بنانے کے بعد وجود میں آتا ہے۔ اس کے نغمے محض نغمے نہیں ہوتے بلکہ روح انسانی میں ایک خدائی بھو نچال کی آواز ہوتے ہیں۔ مگر اس دنیا کا شاید یہ سب سے زیادہ عجیب واقعہ ہے کہ ایسے ربانی کلمات بھی انسان کو متاثر نہیں کرتے ۔ داعی اپنے پورے وجود کے ساتھ اس کے سامنے "نذیر عرياں “ بن جاتا ہے ، اس کے باوجود وہ اندھا بہرا انبار رہتا ہے۔ انسان کے سامنے جنت کی کھڑکیاں کھولی جاتی ہیں پھر بھی وہ حدید میں نہیں آتا ۔ اس کو بھڑکتے ہوئے جہنم کا نقشہ دکھایا جاتا ہے پھر بھی اس پر گریہ طاری نہیں ہوتا ۔ اس کے سامنے خدا خود آکر کھڑا ہو جاتا ہے پھر بھی وہ سجدہ میں نہیں کرتا۔ انسان سے زیادہ نازک مخلوق خدا نے کوئی نہیں بنائی مگر انسان سے زیادہ بے حسی کا ثبوت بھی کوئی نہیں دیتا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page