انسان کی تلاش
Urdu book, p. 8
By Maulana Wahiduddin Khan
انسان کی تلاش انسان کے اندر ایک عجیب خصوصیت ہے جو کسی دوسری مخلوق میں نہیں ۔ وہ ہے لامتناہی تلاش کا جذبہ۔ ہر آدمی اپنے پیدائشی جذبے کے تحت ایک ایسی نامعلوم چیز کی تلاش میں رہتا ہے جس کو اس نے پایا نہیں۔ کوئی بھی کامیابی اس کو اس طلب کے بارے میں مطمئن نہیں کرتی، کوئی بھی ناکامی اس کے اندر سے اس جذبہ کو فنا نہیں کر پاتی۔ فلسفہ اس کو آئیڈیل کی طلب کہتے ہیں ۔ یہ آئیڈیل کی طلب ہی تمام انسانی سرگرمیوں کی حقیقی اور آخری قوت محرکہ ہے۔ اگر یہ طلب نہ ہو تو دنیا کی تمام سرگرمیاں اچانک ٹھپ ہو کر رہ جائیں۔ انسانی ذہن کی یہی وہ زبردست طلب ہے جس کو فرائڈ نے غلط طور پر جنسی خواہش سے تعبیر کیا۔ ایڈلر نے اس کو غلط طور پر حصول طاقت کی خواہش قرار دیا۔ میک ڈوگل نے غلط طور پر کہا کہ یہ انسان کی تمام جوانی جبلتوں کے مخلوطہ کا ایک پر اسرار نتیجہ ہے۔ مارکس نے اس کو غلط طور پر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ یہ انسانی زندگی کی معاشی خواہش ہے اور یہی اس کی تمام سرگرمیوں کو کنٹرول کرتی ہے۔ مگر ان توجیہات کو غلط قرار دینے کے لئے یہی واقعہ کافی ہے کہ یہ چیزیں جن لوگوں کو پوری طرح ملیں وہ بھی مطمئن نہ ہو سکے۔ ان کی اندرونی ہستی بھی اسی طرح بے چین رہی جس طرح ان چیزوں سے محروم رہنے والے بے چین نظر آتے ہیں ۔ انسان ہزاروں برس سے اپنے اس آئیڈیل کو دنیا کی چیزوں میں تلاش کر رہا ہے، مگر کوئی بھی شخص اس اطمینان سے دوچار نہیں ہوا کہ اس نے اپنی تلاش کا مکمل جواب پالیا ہے۔ اس معاملہ میں بادشاہ یا امیر بھی اتنا ہی غیر مطمئن رہتا ہے جتنا کوئی بے زور اور مفلس آدمی ۔ یہ لمبا تجربہ یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ "نظر آنے والی “ دنیا میں آدمی کی تلاش کا جواب موجود نہیں۔ اس کا جواب اس "لا نظر نہ آنے والی “ دنیا میں ہے جس کو آدمی محسوس تو کرتا ہے مگر دیکھ نہیں پاتا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ طلب خدا کی طلب ہے ۔ آدمی جس آئیڈیل کو پانے کے لئے بے قرار رہتا ہے وہ خود اس کا خالق ہے۔ ہر آدمی جس چیز کی تلاش میں ہے وہ دراصل وہ خدا ہے جو اس کی روح میں سمایا ہوا ہے۔ ہر آدمی اپنی فطرت کے تحت مسلسل خدا کی جستجو میں رہتا ہے وہ اپنے اس اندرونی جذبے کے تحت دنیا کی مختلف چیزوں کی طرف دوڑتا ہے اور سمجھتا ہے کہ شاید یہ چیز اس کی تلاش کا جواب ہو۔ مگر جب وہ اس کو پالتیتا ہے اور قریب سے اس کا تجزیہ کرتا ہے تو اس کو معلوم ہوتا ہے کہ یہ چیز وہ نہیں جس کی تلاش میں وہ سرگردان تھا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader