کائنات بول رہی ہے
Urdu book, p. 135
By Maulana Wahiduddin Khan
لکڑی کو کھاتے ہیں۔ پتھر کے بعد لکڑی تمام معلوم چیزوں میں سب سے زیادہ عسیر الہضم (indigestible) ہے ۔ مگر دیمک کے لیے یہ کوئی مشکل کام نہیں۔ وہ اس مقصد کے لیے مخصوص جبڑے رکھتے ہیں جو آرے کا کام دینے کے ساتھ ساتھ پیسنے کا کام بھی کرتے ہیں۔ تا ہم لکڑی خواہ کتنی ہی پیس ڈالی جائے، وہ بہر حال لکڑی ہی رہے گی، اور پیٹ میں جا کر غذا کی ضرورت پوری کرنے کے بجائے صرف بد ہضمی پیدا کرے گی۔ پھر کیا چیز ہے، جو دیمک کی مدد کرتی ہے۔ اس کام کے لیے دیمک کی آنتوں میں نہایت چھوٹے چھوٹے خورد بینی کیڑے موجود ہیں۔ یہ کیڑے نگلی ہوئی لکڑی پر مخصوص عمل کر کے اس کے اندر ایسی تبدیلیاں پیدا کر دیتے ہیں کہ وہ ہضم ہو کر جزء بدن ہو سکے ۔ یہ حیرت انگیز انتظام کون کرتا ہے۔ مرغی کے انڈے پر غور کیجیے۔ ہر ایک انڈے میں سات ایسی مختلف خصوصیات پائی جاتی ہیں، جو اتنی اہم ہیں کہ ان میں سے ایک بھی اگر نہ ہو تو انڈا، انڈا نہ رہے گا— چونے کا خول، خول کے اندر مسامات جو ہوا کو گزرنے کا راستہ دیتے ہیں، پتلی جھلی جو آسٹر کی طرح چاروں طرف ہوتی ہے، زردی اور سفیدی جو خول کے اندر بچے کی غذا ہیں، بچے کا جرثومہ، تار جو جرثومے کو صحیح رخ پر باقی رکھتے ہیں۔ ان میں سے کسی ایک چیز کو انڈے سے الگ کر دیجیے، اور انڈا کبھی بھی چوزے کی پرورش گاہ نہیں بن سکے گا۔ کیا یہ سات مختلف چیزیں محض اتفاق سے یکجا ہو گئی ہیں۔ ”اتفاق“ ان سات مختلف چیزوں کی موجودگی کی تشریح نہیں کر سکتا، جو ٹھیک اور بالکل صحیح حالت میں پائی جا رہی ہیں ۔ اس سے زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ اتفاق سے صرف یہی چیزیں کیوں اکٹھا ہوئیں۔ کیوں نہ درخت کی پتی ، کوئی لکڑی ، پتھر کا ایک ٹکڑا اور اس طرح کی ہزاروں چیزیں جن کا موجود ہونا ممکن تھا، خول کے اندر آگئیں، جن میں سے کوئی ایک چیز بھی اگر وہاں ہوتی تو وہ سارے انڈے کو برباد کر دیتی۔ سب سے زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ جب مرغی کا بچہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ انڈے سے باہر نکلے، اس وقت اس کی چونچ پر ایک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader