خدا کی دریافت
Urdu book, p. 177
By Maulana Wahiduddin Khan
womb) کے اندر محدود تھا۔ آئن سٹائن (Albert Einstein) نے سو سال بعد انسان کو اس خول کی موجودگی کی خبر دی ۔ ایسی حالت میں اب انسان کے لیے عقلی رویہ صرف یہ ہے کہ وہ بالاتر حقائق کے بارے میں اپنی علمی محدودیت (limitations) کا اعتراف کرے ، نہ کہ وہ اُن کے بارے میں یقین کے ساتھ علمی بیانات دینے لگے۔ ریاضیاتی ذہن بظاہر سائنس خدا کے بارے میں غیر جانب دار ہے۔ مگر یہ غیر جانپ داری سراسر مصنوعی ہے۔ سائنسی مطالعہ واضح طور پر یہ بتاتا ہے کہ کائنات کا نظام ایسے محکم انداز میں بنا ہے کہ اس کے پیچھے ایک خالق کو مانے بغیر اس کی توجیہ ممکن نہیں۔ سرجیمز جینز نے 1932 میں کہا تھا کہ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ کائنات کا نقشہ ایک خالص ریاضی داں نے تیار کیا ہے : In 1932, Sir James Jeans, an astrophysicist said: “The universe appears to have been designed by a pure mathematician”. (Encyclopædia Britannica, Vol. 15, P. 531, 1984) سرجیمز جینز نے جو بات کہی تھی ، دوسرے متعدد سائنس دانوں نے بھی مختلف الفاظ میں اس کا اقرار کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کائنات کا ریاضیاتی اصولوں پر بننا، اور اس کا ریاضیاتی اصولوں پر حرکت کرنا، اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کے پیچھے ایک ایسا ذہن کام کر رہا ہے، جو ریاضیاتی قوانین کا شعور رکھتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader