ایمان بالغیب
Urdu book, p. 24
By Maulana Wahiduddin Khan
فنی سائنس (technical science)_ سائنسی مطالعے کے مطابق، فنی سائنس کا دائرہ بہت محدود ہے۔ فنی سائنس کے ذریعے چیزوں کے صرفِ ظواہر (appearance) کو دیکھا جا سکتا ہے، لیکن تمام چیزیں جو بظاہر دکھائی دیتی ہیں، وہ اپنے آخری تجزیے میں غیر مرئی (invisible) ہو جاتی ہیں۔ مثلاً آپ پھول کو دیکھ سکتے ہیں، لیکن پھول کی خوشبو کو آپ نہیں دیکھ سکتے۔ پھول کی خوشبو کو کسی بھی خوردبین (microscope) یا دوربین (telescope) کے ذریعے دیکھنا ممکن نہیں۔ حالاں کہ جس طرح پھول کا وجود ہے، اسی طرح پھول کی خوشبو کا بھی وجود ہے۔ سائنسی مطالعے کے مطابق، تمام چیزیں آخر کار ایٹم کا مجموعہ ہیں، اور ایٹم اپنے آخری تجزیے میں الیکٹران (electron) کا مجموعہ ہے۔ ایک پولش امریکن سائنس داں، الفریڈ کورزبسکی (1950-1879 ,Alfred Korzybski) نے اس حقیقت کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ پوری کائنات ناقابلِ مشاہدہ الیکٹران کا مجنونانہ رقص (mad dance of electrons) ہے۔ ایک اور سائنس داں نے کائنات کی اسی غیر مرئی حیثیت کی بنا پر کائنات کو امکان کی لہروں (waves of probability) سے تعبیر کیا ہے۔ اس اعتبار سے یہ کہنا درست ہوگا کہ صرف بظاہر غیر مشہود خالق (Creator) ہی غیب میں نہیں ہے، بلکہ بظاہر مشہود تخلیق (creature) بھی حالتِ غیب میں ہے۔ برٹش سائنس داں سر آرتھر ایڈنگٹن (وفات (1944) نے اس موضوع پر ایک کتاب لکھی ہے، اس کتاب کا نام یہ ہے: Science and the Unseen World by A. S. Eddington, Macmillan, 1929, pages 91 حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں ہم جن چیزوں کو دیکھتے ہیں، ہم اُن کے صرفِ ظاہر کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader