Urdu book · خدا کی دریافت

خلاق علیم

Urdu book, p. 29

By Maulana Wahiduddin Khan

خلّاقِ علیم اللہ رب العالمین کی ایک صفت خلاق علیم ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے: أَوَلَيْسَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِقَادِرٍ عَلَى أَنْ يَخْلُقَ مِثْلَهُمْ بَلَى وَهُوَ الْخَلَّاقُ الْعَلِيمُ (36:81)۔ یعنی کیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، وہ اس پر قادر نہیں کہ ان جیسوں کو پیدا کردے۔ ہاں وہ قادر ہے۔ اور وہی ہے بڑا پیدا کرنے والا، جاننے والا۔ اس آیت میں جس طرح خلاق (the Great Creator) آیا ہے، اسی طرح اس میں علیم سے مراد علّام (the Great Knower) ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ رب العالمین خلاّق اور علّام ہے۔ اللہ کی پیدا کی ہوئی کائنات اپنے آپ میں اس کا ثبوت ہے۔ اس حقیقت کی طرف قرآن کی ایک آیت میں اس طرح اشاره کیا گیا ہے: أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقاً فَفَتَقْنَاهُمَا وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ أَفَلَا يُؤْمِنُونَ (21:30)۔ یعنی کیا انکار کرنے والوں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں رتق کی حالت میں تھے، پھر ہم نے ان کو فتق کیا۔ اور ہم نے پانی سے ہر جاندار چیز کو بنایا۔ کیا پھر بھی وہ ایمان نہیں لاتے۔ رَتْق کا مطلب ہے منظم الاجزاء (joined together)، اور فتق کا مطلب ہے پھاڑنا (to tear apart)۔ اس آیت کی ابتدا میں أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا (کیا انکار کرنے والوں نے نہیں دیکھا) کے الفاظ آئے ہیں۔ اس میں یہ اشارہ ہے کہ رتق اور فتق کا یہ واقعہ انسان کے لیے مشاہدہ کے درجے میں ایک معلوم واقعہ ہے۔ بیسویں صدی عیسوی میں یہ واقعہ سائنسی دریافتوں کے نتیجے میں علمی طور پر ایک معلوم واقعہ بن چکا ہے۔ جس کو عام زبان میں بگ بینک (Big Bang) کہا جاتا ہے۔ سائنسی دریافت کے مطابق، بگ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page