Urdu book · خدا کی دریافت

انکار سے اقرار تک

Urdu book, p. 304

By Maulana Wahiduddin Khan

(15 بلین سال) کی کائنات میں اتنی نا قابلِ قیاس حد تک زیادہ ہے کہ مجھے صدقِ یَقین ہے کہ زندگی ہماری زمین پر اپنے آپ اچانک شروع نہیں ہوسکتی۔ کیمیائی اتفاق سے اچانک زندگی کا شروع ہونا اس قدر زیادہ بعید بات ہے کہ وہ بالکل لغو (absurd) معلوم ہوتا ہے۔ یہ سوچنا بالکل معقول ہے کہ طبیعیات کے وہ اوصاف جن پر زندگی کا انحصار ہے، وہ ہر اعتبار سے ارادی ہیں۔ وکرما سنگھی لکھتے ہیں ”سر فریڈ ہائل مجھ سے زیادہ بر تر خالق کی طرف مائل تھے۔ میں اکثر اس کے خلاف ان سے بحث کرتا تھا۔ مگر میں نے پایا کہ میں استدلال کی تمام بنیادیں کھو رہا ہوں۔ اس وقت میں کوئی بھی عقلی دلیل نہیں پاتا، جس سے میں خدا کے نظریے کو باطل ثابت کر سکوں۔ اگر میں کوئی دلیل پاتا، خواہ وہ کتنی ہی معمولی کیوں نہ ہو تو میں اس کتاب کے لکھنے میں فریڈ کا شریک کار نہ ہوتا۔ اب ہم محسوس کرتے ہیں کہ زندگی کے بارے میں واحد منطقی جواب یہی ہے کہ وہ تخلیق ہے، نہ کہ کوئی ال ٹپ قسم کا الٹ پھیر۔ میں اب بھی اس امید پر ہوں کہ کسی دن میں دوبارہ خالص مشینی توجیہ پیش کر سکوں۔ ہم بحیثیت سائنس داں کے اس امید میں تھے کہ ہم کوئی راستہ پالیں گے۔ مگر موجودہ تحقیقی نتائج کے مطابق اس کی کوئی صورت نہیں۔ منطق اب بھی مایوسانہ طور پر اس کے خلاف ہے۔ میں ایک بدھسٹ ہوں۔ اگرچہ کوئی پر جوش نہیں۔ اس اعتبار سے یہ میرے لیے کوئی مسئلہ نہ تھا۔ کیونکہ بدھزم ایک بے خدا مذہب ہے، جو اس بات کا دعویٰ نہیں کرتا کہ وہ تخلیق کے بارے میں کچھ جانتا ہے۔ بدھزم کے نظام میں خالق کا کوئی وجود نہیں۔ مگر اب میں پا تا ہوں کہ میں منطق کے ذریعے اسی مقام پر پہنچا دیا گیا ہوں۔ اس کے سوا کوئی طریقہ نہیں جس سے ہم یہ سمجھ سکیں کہ مخصوص کیمیائی مادوں میں وہ حد درجہ درست نظام کیوں کر پایا جاتا ہے، جس سے کائناتی سطح پر تخلیقات کا ظہور ہو۔“

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page