Urdu book · خدا کی دریافت

بامعنی کائنات

Urdu book, p. 319

By Maulana Wahiduddin Khan

کاربن ڈائی آکسائڈ، کھانا، پانی، ناکارہ اشیا کی نکاسی ، ٹمپریچر اور دباؤ کو بیچ کرنا، وغیرہ: اسی فطری نظام کی وجہ سے زمین انسانوں جیسی زندہ مخلوق کے لیے قابلِ رہائش ہے۔ اس قسم کا کوئی اور سیاراتی نظام ابھی تک ساری کائنات میں معلوم نہ کیا جاسکا۔ موجودہ زمانے میں سائنس کا ایک مستقل شعبہ وجود میں آیا ہے، جس کو ایس ای ٹی آئی (SETI) کہا جاتا ہے ۔ اس کا مطلب ہے —بالائے خلاذہانت کی تلاش: زندگی کے ارتقائی نظریے کے تحت سائنس دانوں کا گمان ہے کہ کائنات کے دوسرے مقامات پر بھی انسان جیسی ذہین مخلوق ہونی چاہیے ۔ کیوں کہ ارتقائی عمل عموم چاہتا ہے، ارتقائی عمل میں استثنا کے لیے کوئی جگہ نہیں ۔ اس فرضی قیاس پر جدید انسان کو اتنا زیادہ یقین ہے کہ ایک امریکن سائنسی مصنف اسحاق اسیمو (1992-1920 ,Isaac Asimov) نے حساب لگا کر اعلان کیا ہے کہ ہماری کہکشاں میں چار سومین سیارے ایسے ہیں، جن میں پودے اور جانور پائے جاتے ہیں یا پائے جاسکتے ہیں۔ مگر یہ سب کا سب محض حسابی قیاس ہے۔ سورج ایک اوسط درجے کا ستارہ ہے۔ اس کا قطر (diameter) آٹھ لاکھ 65 ہزار میل ہے۔ وہ ہماری زمین سے تقریبا بارہ لاکھ گنا بڑا ہے۔ سورج کی سطح پر حرارت ہے اس کا اندازہ بارہ ہزار ڈگری فارن ہائٹ ٹمپریچر کیا گیا ہے۔ زمین سے سورج کا فاصلہ تقریبا نو کرور 30 لاکھ میل ہے۔ یہ فاصلہ حیرت انگیز طور پر مسلسل قائم ہے۔ یہ واقعہ ہمارے لیے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page