جس زندگی کی ہمیں تلاش ہے
Urdu book, p. 325
By Maulana Wahiduddin Khan
جس زندگی کی ہمیں تلاش ہے مشہور جرمن مفکر فریڈرش انگلس (1829-1895 Friedrich Engels) نے کہا ہے—“ آدمی کو سب سے پہلے تن ڈھانلنے کو کپڑا اور پیٹ بھرنے کو روٹی چاہیے، اس کے بعد ہی وہ فلسفہ و سیاست کے مسائل پر غور کر سکتا ہے۔ “ مگر حقیقت یہ ہے کہ انسان سب سے پہلے جس سوال کا جواب معلوم کرنا چاہتا ہے، وہ یہ سوال ہے کہ ”میں کیا ہوں؟ یہ کائنات کیا ہے، میری زندگی کیسے شروع ہوئی اور کہاں جا کر ختم ہوگی؟“ یہ انسانی فطرت کے بنیادی سوالات ہیں۔ آدمی ایک ایسی دنیا میں آنکھ کھولتا ہے جہاں سب کچھ ہے مگر یہی ایک چیز نہیں۔ سورج اس کو روشنی اور حرارت پہنچاتا ہے، مگر وہ نہیں جانتا کہ وہ کیا ہے، اور کیوں انسان کی خدمت میں لگا ہوا ہے۔ ہوا اس کو زندگی بخشتی ہے، مگر انسان کے بس میں نہیں ہے کہ وہ اس کو پکڑ کر پوچھ سکے کہ تم کون ہو، اور کیوں ایسا کر رہی ہو؟ وہ اپنے وجود کو دیکھتا ہے، اور نہیں جانتا کہ میں کیا ہوں، اور کس لیے اس دنیا میں آ گیا ہوں؟ ان سوالات کا جواب متعین کرنے سے انسان کا ذہن قاصر ہے۔ مگر انسان بہر حال ان کو معلوم کرنا چاہتا ہے۔ یہ سوالات خواہ لفظوں کی شکل میں متعین ہو کر ہر شخص کی زبان پر نہ آئیں مگر وہ انسان کی روح کو بے چین رکھتے ہیں، اور کبھی کبھی اس شدت سے ابھرتے ہیں کہ آدمی کو پاگل بنا دیتے ہیں۔ انگلس کو دنیا ایک ملحد انسان کی حیثیت سے جانتی ہے۔ مگر اس کا الحاد اس کے غلط ماحول کا ردِّ عمل تھا جو بہت بعد کو اس کی زندگی میں ظاہر ہوا۔ اس کی ابتدائی زندگی مذہبی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader