معرفت کے دو درجے
Urdu book, p. 70
By Maulana Wahiduddin Khan
خداوندی کو سمجھنا ہے، نہ کہ اس کے کورس کو بدلنے کی کوشش کرنا۔ کیوں کہ وہ ممکن ہی نہیں۔ قرآن کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے بار بار اہل ایمان کو یہ بتایا تھا کہ کائنات انسان کے لیے مسخر کر دی گئی ہے۔ تم ان تسخیری قوانین کو دریافت کرو، تا کہ تم معرفت کے اس درجے تک پہنچ سکو، جس کو سائنسی معرفت کہا جاتا ہے۔ مگر اہل ایمان اس کام کو کرنے میں عاجز ثابت ہوئے۔ اس کے بعد اللہ نے اپنی سنت کے مطابق اس کام کے لیے ایک اور قوم کو کھڑا کیا (محمد، 47:38)۔ یہ یورپ کی مسیحی قوم تھی۔ ایسا اس طرح ہوا کہ صلیبی جنگوں (Crusades) میں یورپ کی مسیحی قوم کو اتنی سخت شکست ہوئی کہ بظاہر ان کے لیے جنگ کا آپشن (option) باقی نہ رہا۔ اب عملاً ان کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ اپنے معاملے کی ری پلاننگ کریں ، اور اپنی کوشش کسی دوسرے میدان میں جاری رکھیں ۔ چنانچہ انھوں نے میدان جنگ کے بجائے قوانینِ فطرت (laws of nature) کے دریافت کی طرف بتدریج اپنی کوششوں کا رخ موڑ (divert) دیا۔ اٹلی کے سائنسدان گلیلیو گلیلی (وفات 1642ء) کو فادر آف ماڈرن سائنس (father of modern science) کہا جاتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ یہی وہ پہلا سائنس داں تھا، جس سے ماڈرن سائنس کا سفر باقاعدہ صورت میں شروع ہوا۔ یہ عمل تقریباً چار سو سال تک جاری رہا۔ یہاں تک کہ بیسویں صدی میں وہ اپنی تکمیل تک پہنچ گیا۔ بیسویں صدی میں انسان کو وہ تمام سائنٹفک ڈیٹا حاصل ہوگئے، جو خالق کو سائنسی سطح یاریشنل لیول پر دریافت کرنے کے لیے ضروری تھے۔ اللہ نے جس عالم کو تخلیق کیا، اس کے ہر جزء پر خالق کی شہادت ثبت (stamped) ہے۔ پھر اس نے اس علم سے فرشتوں کو واقف کرایا۔ اس کے بعد اس نے اس حقیقت کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader