Urdu book · خدا کی دریافت

خدا کی دریافت

Urdu book, p. 79

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ آخرت کی دنیا صرف عقیدے کی بات نہیں۔ وہ پوری طرح ایک علمی واقعہ ہے۔ عالم آخرت کے وجود کو ٹھیک اسی علمی معیار پر ثابت کیا جاسکتا ہے جس معیار پر سائنس میں دوسری تمام چیزوں کو ثابت کیا جاتا ہے۔ سائنسی ثبوت اس معاملے میں سب سے پہلے یہ جاننا چاہیے کہ سائنٹفک پروف کیا ہے۔ موجودہ سائنس کے مطابق، سائنٹفک پروف یہ نہیں ہے کہ کسی چیز کے معاملے میں تیقن (certainty ) کا درجہ حاصل ہوجائے۔ اس قسم کا ناقابل انکار تیقن کسی بھی چیز کے بارے میں ممکن نہیں۔ جدید سائنسی موقف کے مطابق، کسی چیز کا علمی طور پر ثابت ہوجانا یہ ہے کہ اس کا قرینہ یا امکان (probability ) ثابت ہوجائے۔ جدید سائنس میں جن نظریات کو مسلمہ کے طور پر مانا جاتا ہے ان کو صرف اس لیے مانا جاتا ہے کہ وہ امکان (probability ) کے درجے میں ثابت ہو گیا، نہ یہ کہ مشاہداتی سطح پر ان کے واقع ہونے کا قطعی علم حاصل ہو گیا ہے۔ ایٹم کے اسٹرکچر کو بطور حقیقت ماننا اسی نوعیت کی ایک مثال ہے۔ عالم آخرت کے وجود کو ماننے کے لیے بھی ہمیں اسی مسلمہ سائنٹفک متھڈ کو استعمال کرنا ہوگا۔ اس کے سوا کسی دوسرے متھڈ کو استعمال کرنا اصولی طور پر درست نہیں۔ کیوں کہ علمی طور پر ہم ایسا نہیں کر سکتے کہ دوسرے معاملَات میں جس سائنٹفک متھڈ کو ہم معقول (valid ) مانیں، عالم آخرت کے بارے میں ہم اس متھڈ کے استعمال سے انکار کر دیں۔ تین علمی اصول جیسا کہ معلوم ہے، اس طرح کے معاملے میں تین علمی اصول سائنٹفک متھڈ کے تین اجزا ہیں۔ وہ اجزا یہ ہیں — مفروضہ، مشاہدہ، اور تصدیق: Hypothesis, Observation, Verification

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page