معرفت الہی
Urdu book, p. 9
By Maulana Wahiduddin Khan
معرفت کیا ہے معرفت کے لفظی معنی پہچاننے کے ہیں۔ دینی اصطلاح میں، معرفت کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آدمی اللہ کو پہچانے۔ وہ اپنے شعور کو اس طرح بیدار کرے کہ اس کو خالق اور مخلوق، اور عبد اور معبود کے درمیان تعلق کی گہری پہچان ہو جائے۔ معرفت شعوری دریافت کا نام ہے، وہ کسی پراسرار چیز کا نام نہیں۔ معروف لغوی اور مفسر راغب الاصفہانی (وفات 1108ء) نے لکھا ہے: المعرفة والعرفان إدراك الشئ بتفكر وتدبر لأثره، ومعرفة البشر لله هي بتدبر أثاره دون إدراك ذاته (المفردات فی غريب القرآن، صفحہ 331) یعنی معرفت یا عرفان کا لغوی مطلب یہ ہے کہ آدمی کسی چیز کی علامت میں غور وفکر کر کے اس کی حقیقت کو دریافت کرے ۔ اور اللہ کی معرفت یہ ہے کہ انسان اللہ کو اس کی نشانیوں میں غور وفکر کے ذریعے دریافت کرے، نہ کہ اس کی ذات میں۔ اس سے معلوم ہوا کہ معرفت کا تعلق مجرد علم سے نہیں ہے، بلکہ معرفت کا تعلق غور وفکر سے ہے۔ علم کسی آدمی کے اندر معرفت کی ابتدائی صلاحیت پیدا کرتا ہے، یعنی چیزوں پر گہرائی کے ساتھ غور وفکر کرنا۔ جب کوئی شخص معرفت کو اپنا مرکزِ توجہ بناتا ہے، وہ مسلسل طور پر اس کے بارے میں سوچتا ہے، وہ تخلیقات میں خالق کو جاننے کی کوشش کرتا ہے۔ اس غور وفکر کے نتیجے میں اس کے اندر ایک نئی شخصیت ابھرتی ہے۔ اسی شخصیت کا نام عارف انسان ہے۔ جس شخص کو اس قسم کی معرفت حاصل ہو جائے، وہ انتہائی سنجیدہ شخص بن جاتا ہے۔ وہ ہر چیز کو عارفانہ نظر سے دیکھتا ہے۔ وہ شدت کے ساتھ اپنا محاسبہ کرنے لگتا ہے۔ اس کی عبادت اور اس کے اخلاق و معاملات میں معرفت کے اثرات دکھائی دینے لگتے ہیں۔ اس کو فرشتوں کی ہم نشینی حاصل ہو جاتی ہے۔ اس کا لگاؤ سب سے زیادہ اُن چیزوں میں ہو جاتا ہے جو معرفت کی غذا دینے والی ہوں۔ وہ معرفت کے ماحول میں جیتا ہے اور معرفت کی ہواؤں میں سانس لیتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader