تزکیۂ نفس
Urdu book, p. 179
By Maulana Wahiduddin Khan
تزکیہ کی اہمیت ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ مسند احمد کے الفاظ یہ ہیں: اِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ، وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ، يُجَاءُ بِالْمَوْتِ كَأَنَّهُ كَبْشُ أَمْلَحُ، فَيُوقَفُ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، فَيُقَالُ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ هَلْ تَعْرِفُونَ هَذَا؟ قَالَ: فَيُشْرِئُبُونَ فَيَنْظُرُونَ، وَيَقُولُونَ: نَعَمْ هَذَا الْمَوْتُ، قَالَ: فَيُقَالُ: يَا أَهْلَ النَّارِ هَلْ تَعْرِفُونَ هَذَا؟ قَالَ: فَيُشْرِئُبُونَ فَيَنْظُرُونَ وَيَقُولُونَ: نَعَمْ هَذَا الْمَوْتُ، قَالَ: فَيُؤْمَرُ بِهِ فَيُذْبَحُ، قَالَ: وَيُقَالَ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ خُلُودٌ لَا مَوْتَ، وَيَا أَهْلَ النَّارِ خُلُودٌ لَا مَوْتَ (مسند احمد، حدیث نمبر 11066) یعنی قیامت میں جب جنت والے جنت میں داخل ہو جائیں گے اور جہنم والے جہنم میں داخل ہو جائیں گے تو وہاں موت کو لایا جائے گا۔ وہ ایک سفید مینڈھے کی صورت میں ہوگی۔ اس کو جنت اور جہنم کے درمیان کھڑا کیا جائے گا۔ پھر کہا جائے گا کہ اے جنت والو، کیا تم لوگ اس کو پہچانتے ہو، پھر وہ اس کو گردن اٹھا کر دیکھیں گے اور کہیں گے کہ ہاں، یہ موت ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اس کے بعد جہنم والوں سے کہا جائے گا کہ اے جہنم والو، کیا تم لوگ اس کو پہچانتے ہو، پھر وہ سر اٹھا کر اس کو دیکھیں گے اور کہیں گے کہ ہاں، یہ موت ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اس کے بعد حکم دیا جائے گا اور موت کو ذبح کر دیا جائے گا۔ پھر کہا جائے گا کہ اے جنت والو، اب تمھارے لیے ہمیشگی ہے، اب تمھارے لیے موت نہیں۔ اور اے جہنم والو، اب تمھارے لیے ہمیشگی ہے، اب تمھارے لیے موت نہیں۔ تزکیہ کیا ہے، تزکیہ کا مطلب ہے اپنے آپ کو وہ مزکی شخصیت (purified personality) بنانا جو جنت کے اعلیٰ ماحول میں بسائے جانے کے قابل ہو۔ قیامت میں یہ واقعہ پیش آئے گا کہ جب مزکی افراد جنت میں اور غیر مزکی افراد جہنم میں داخل کر دئے جائیں گے تو اس کے بعد یہ اعلان کیا جائے گا کہ اب موت کا قانون ختم کر دیا گیا ہے، اب دونوں گروہوں کو ابدی طور پر اپنی اپنی دنیا میں رہنا ہے۔ یہ بڑا عجیب لمحہ ہوگا۔ جنت والے مسرور ہوں گے کہ انھیں ابدی طور پر خوشیوں کی دنیا حاصل ہوگئی۔ دوسری طرف، جہنم والے ناقابل بیان حسرت میں مبتلا ہو جائیں گے۔ یہ سوچ ان کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader