Urdu book · کتابِ معرفت

تزکیۂ نفس

Urdu book, p. 181

By Maulana Wahiduddin Khan

جنت کا معاملہ تزکیہ سے جڑا ہوا ہے۔ تزکیہ ہی جنت میں داخلے کی واحد شرط ہے۔ تزکیہ کے بغیر ہر گز کسی شخص کو جنت میں داخلہ ملنے والا نہیں۔ حدیث تزکیہ کا ذریعہ ایک عالم نے کہا ہے : مَن كان في بيته مجموعة من الأحاديْث، فكأنما فيه نبيّ يتكلم ( جس آدمی کے گھر میں حدیث رسول کا ایک مجموعہ ہو ، گویا کہ اس کے گھر میں خود پیغمبر کلام کرتا ہوا موجود ہے )۔ مذکورہ عالم نے جو بات کہی ، وہ صرف کلام رسول کے بارے میں نہیں ہے ، بلکہ وسیعی اعتبار سے وہ گویا صحبت رسول کے معنی میں بھی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جو اقوال حدیث کی کتابوں میں آئے ہیں ، وہ مجرد اقوال نہیں ہیں ، بلکہ ہر قول کا ایک پس منظر (background) ہے ، یعنی رسول اللہ کسی مقام پر تھے ، وہاں ایک صورت حال پیدا ہوئی ، اس صورتِ حال کے تقاضے کے طور پر آپ نے لوگوں کو نصیحت کرتے ہوئے کلام کیا۔ اس طرح آپ کا ہر قول کسی نہ کسی پس منظر سے جڑا ہوا ہے۔ آپ کا ہر قول کسی نہ کسی صورتِ حال کو بتاتا ہے۔ اگر آدمی اپنے شعورِ حدیث کو اتنا زیادہ بیدار کرے کہ وہ حدیث کے ساتھ اس کے بیک گراؤنڈ کو اپنے تصور میں لا سکے ، تو یہ واقعہ اس کے لیے گویا صحبتِ رسول میں پہنچنے کے ہم معنیٰ بن جائے گا۔ وہ محسوس کرے گا کہ میں نہ صرف کلامِ رسول کو کتاب میں پڑھ رہا ہوں ، بلکہ کلام کے بین السطور (between the lines) میں اس کے بیک گراؤنڈ کو بھی اپنے ذہن میں تازہ کر رہا ہوں۔ یہ احساس اگر آدمی کے اندر شدت کے ساتھ ابھر آئے تو مطالعہ حدیث اس کے لیے صحبتِ رسول میں بیٹھنے کے مانند ہو جائے گا۔ اس طرح حدیث کے بارے میں اس کا تاثر ہزار گنا زیادہ بڑھ جائے گا۔ اس پہلو سے غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ حدیث کو پڑھنے والا صرف حدیث کو پڑھنے والا نہیں ہے ، بلکہ وہ گویا صحابہ کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں بیٹھنے والا ہے۔ حدیث کے مطالعے کا یہ ایک تخلیقی (creative) اسلوب ہے ، اور تخلیقی اسلوب میں حدیث رسول کا مطالعہ بلاشبہ تزکیہ کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page