Urdu book · کتابِ معرفت

ربانیات

Urdu book, p. 237

By Maulana Wahiduddin Khan

تخلیقی کرشمہ، ذاتی کمال انسان تخلیقِ خداوندی کا شاہ کا رہے ۔ وسیع کائنات میں انسان جیسی کوئی مخلوق موجود نہیں۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ انسان کو اس کے پیدا کرنے والے نے اس کو مکرم مخلوق کے طور پر پیدا کیا ہے (الاسراء، 17:70)۔ اسی طرح انسان کو اس کے پیدا کرنے والے نے اس کو احسن تقویم کے ساتھ پیدا کیا ہے (التین، 4: 95)۔ اسی طرح انسان کو اس کے پیدا کرنے والے نے اس کو بہترین صورت کے ساتھ پیدا کیا ہے (غافر، 40:64)۔ یہ بات قرآن میں مختلف انداز سے بار بار بیان کی گئی ہے۔ انسان بلاشبہ تخلیقِ خداوندی کا شاہ کار ہے۔ اگر آپ اپنے وجود کو اس حیثیت سے دریافت کریں تو آپ کے اندر حمدِ خداوندی کا ایک طوفان برپا ہو جائے گا۔ آپ محسوس کریں گے کہ یہ آپ کے اوپر خالق کا اتنا بڑا احسان ہے کہ اس کو بیان کرنے کے لیے تمام انسانی الفاظ بھی ناکافی ہیں۔ یہ دریافت آپ کو دعا کے لیے ایک عظیم پوائنٹ آف ریفرنس (point of reference) دے دے گی۔ آپ پکار اٹھیں گے کہ خدایا، تو نے دنیا میں میرے ساتھ اتنی بڑی رحمت کا معاملہ فرمایا، اب کیا آخرت میں تو مجھ کو اپنی رحمتوں سے محروم کر دے گا۔ کیا تو اپنی اس شاہ کار تخلیق کو جہنم کے شعلوں کے حوالے کر دے گا۔ مگر عجیب بات ہے کہ لوگ انسان کو تخلیقِ الہیٰ کے شاہ کار کے طور پر دریافت نہیں کر پاتے۔ ہر ایک اس کو صرف انسان کے ذاتی کمال کے طور پر دریافت کئے ہوئے ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہر آدمی اپنی ذات میں جیتا ہے۔ ہر آدمی اپنے وجود سے صرف عُجب (pride) کی غذا لیتا ہے۔ ہر آدمی شعوری یا غیر شعوری طور پر اپنے ہی کو سب کچھ بنائے ہوئے ہے۔ دوسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو اس سے شخصیت پرستی کی غذا لے رہے ہیں۔ وہ اپنے بڑوں میں جب یہ تخلیقی کمالات دیکھتے ہیں تو وہ ان کمالات کو خود اُنھیں بڑوں سے منسوب کر کے ان کی تعظیم و تقدیس کرنے لگتے ہیں۔ جس کمال کو خالق کی طرف منسوب کرنا چاہیے، اس کو وہ مخلوق سے منسوب کر دیتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ خالق کی پرستش کے بجائے مخلوق کی پرستش میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page