Urdu book · کتابِ معرفت

ربانیات

Urdu book, p. 252

By Maulana Wahiduddin Khan

ایمانی انفجار ایک مومن وہ ہے جو رُٹین کی دین داری سے بنتا ہے۔ یہ وہ مومن ہے جس نے کلمہ پڑھا ہو، جو مقررہ عبادتیں کرے، جو اخلاق اور معاملات میں شریعت کا پابند ہو، جو مومنانہ وضع قطع اختیار کرے۔ اس قسم کی دین داری رُٹین کی دین داری ہے۔ یہ دین داری بھی بلاشبہ مطلوب ہے، لیکن اس قسم کی دین داری سے وہ مومن نہیں بنتا جس کو اعلیٰ مومن کہا جاتا ہے۔ اعلیٰ مومن کیسے بنتا ہے، اس کو اموی خلیفہ عمر بن عبدالعزیز (وفات 101 ھ) کی مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ عمر بن عبدالعزیز 93 ہجری میں مدینہ کے گورنر تھے۔ اُس وقت وہاں ایک تابعی رہتے تھے جن کا نام خُبیب بن عبداللہ بن الزبیر تھا۔ دمشق کے اموی حکمراں الولید بن عبد الملک کو اُن سے شکایت ہو گئی۔ الولید نے عمر بن عبدالعزیز کو یہ حکم بھیجا کہ خُبیب کو سو کوڑے مارو اور سردی کے موسم میں اُن کے سر پر ٹھنڈا پانی گراؤ۔ عمر بن عبدالعزیز نے ایسا ہی کیا۔ اِس کے بعد خُبیب کی وفات ہو گئی۔ اِس واقعے نے عمر بن عبدالعزیز کو اتنا زیادہ تڑپایا کہ ان کی زندگی میں انقلاب آگیا۔ اُن کا حال یہ ہو گیا کہ اگر اُن کو ان کے کسی کار خیر پر آخرت کے انعام کی بشارت دی جاتی تو وہ کہہ اٹھتے کہ ایسا کیوں کر ہو سکتا ہے، جب کہ خبیب میرے راستے میں ہیں۔ البداية والنهاية، 9/103 یہ انقلابی واقعہ کیسے پیش آیا، اِس کو برین اسٹارمنگ (brainstorming) کے نظریے سے سمجھا جا سکتا ہے۔ آدمی کو جب کوئی سخت جھٹکا لگتا ہے تو اس کے دماغ میں ایک بھونچال آ جاتا ہے۔ اس کے دماغ کے تمام امکانات جاگ اٹھتے ہیں۔ پہلے اگر وہ انسان تھا تو اب وہ سُپر انسان بن جاتا ہے۔ اُس کے اندر انتہائی شدید قسم کا محاسبہ (introspection) جاگ اٹھتا ہے۔ اس کا خوفِ خدا اپنی آخری حد تک پہنچ جاتا ہے۔ یہ ذہنی بھونچال اس کے ایمان کو بڑھاتا ہے۔ اس کے بعد اس کے اندر وہ بے قراری پیدا ہوتی ہے جو اس کو ایمانی ترقی کے اعلیٰ درجے تک پہنچادیتی ہے۔ وہ خدا سے قربت کا اعلیٰ تجربہ کرتا ہے۔ وہ تقویٰ کے بلند ترین مقام تک پہنچ جاتا ہے۔ رُٹین کی دین داری سے کسی آدمی کے اندر ایمانی انفجار پیدا نہیں ہوتا، اس لیے رُٹین کی دین داری سے کسی کو اعلیٰ ایمان کا تجربہ بھی نہیں ہوتا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page