ربانیات
Urdu book, p. 254
By Maulana Wahiduddin Khan
ایمان ایک زلزلہ خیز عقیدہ آپ اپنے گھر میں اپنے بچے کے ساتھ ہیں۔ اتنے میں زمین سے گڑگڑاہٹ کی آواز سنائی دی ۔ دیواریں اور چھتیں ہلنے لگیں۔ کھڑکیاں زور زور سے کھلنے اور بند ہونے لگیں۔ بچہ پوچھتا ہے کہ ابا، یہ کیا چیز ہے۔ آپ اس کو جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ بھونچال ہے۔ غور کیجئے کہ اس طوفان خیز لمحہ میں آپ کا یہ کہنا کہ یہ بھونچال ہے‘‘کیا صرف چند الفاظ کا مجموعہ ہوگا۔ آپ یہ جملہ بول کر بھی سکون کے ساتھ اپنے گھر میں بیٹھے رہیں گے۔ یقینا ایسا نہیں ہو سکتا۔ یہ بھونچال ہے‘‘ کا جملہ بظاہر ایک لفظی جملہ ہے، مگر وہ ایک عظیم واقعہ کا اعلان ہے۔ وہ ایسا جملہ ہے جس کو زبان سے ادا کرتے ہی آدمی کے اوپر کپکپی طاری ہو جائے ۔ یہ بھونچال ہے‘‘ کا لفظ بولتے ہی خود آپ کے اندر بھی ایک بھونچال آجائے گا۔ آپ کی پوری شخصیت ہل جائے گی۔ سر سے پیر تک آپ کا پورا وجود ایک نیا وجود بن جائے گا۔ اس کے بعد آپ ایک ایسے انسان بن جائیں گے جو آپ اس سے پہلے نہیں تھے۔ اسی طرح آپ اپنے دوست کے ساتھ ایک جنگل میں چل رہے ہیں۔ اچانک آپ دیکھتے ہیں کہ پاس کی جھاڑیوں میں ایک خوف ناک شیر کھڑا ہوا ہے۔ آپ اپنے دوست سے کہتے ہیں کہ یہ ایک شیر ہے‘‘ یہ جملہ بھی اس وقت محض ایک لفظی کلمہ نہیں ہوگا بلکہ وہ ایک طوفان خیز تجربہ ہوگا۔ آپ کے جسم میں خون کی گردش خون کا طوفان (blood storm) بن جائے گی۔ یہ ایک ایسا لمحہ ہوگا جو آپ کو اندر سے باہر تک ایک نیا انسان بنا دے گا۔ اس مثال سے سمجھا جاسکتا ہے کہ جب ایک انسان کہتا ہے کہ لا الہ الا اللہ تو اس کا مطلب کیا ہے۔ یہ محض چند الفاظ کو اپنی زبان سے دہرانا نہیں ہے، بلکہ یہ اس خدا کی موجودگی اور کار فرمائی کا اقرار کرنا ہے جو شیر کا اور بھونچال کا اور ہر چیز کا خالق ہے۔ کیسی عجیب بات ہوگی اگر شیر اور زلزلے کی موجودگی کا اقرار آدمی کے اندر طوفان برپا کر دے اور خداوند ذوالجلال کی موجودگی کا اقرار آدمی کے اندر کوئی ہلچل بر پا نہ کرے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader