ربانیات
Urdu book, p. 256
By Maulana Wahiduddin Khan
خدا کا اعتراف نہیں آج کل یہ رواج ہے کہ ایک شخص پیسہ کمائے گا اور اس کے بعد وہ ایک کار خرید کر اپنے بیٹے کو دے گا۔ کار کے شیشہ پر لکھا ہوا ہوگا بی باپ کی طرف سے تحفہ (Dad's Gift)۔ یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ ناشکری کا کلمہ ہے۔ ایک نعمت جو حقیقتاً خدا کی طرف سے ملی ہے، اس کو خدا کی طرف منسوب نہ کرنا، بلکہ اس کو خود اپنے کمالات کے خانے میں ڈال دینا، یہ خدا کے ساتھ بے اعترافی کا معاملہ کرنا ہے، اور خدا کے ساتھ بے اعترافی بلا شبہ خدا کی اس دنیا میں سب سے بڑے جرم کی حیثیت رکھتا ہے۔ قرآن کی سورہ النمل میں بتایا گیا ہے کہ پیغمبر سلیمان بن داؤد کو ایک مادی نعمت ملی تو انھوں نے فوراً کہا: هَذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّي (27:40) ۔ یعنی یہ میرے رب کے فضل میں سے ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ پیغمبر نے اس کو خدا کی طرف سے عطیہ (God's gift) قرار دیا۔ یہی صحیح ایمانی طریقہ ہے۔ صاحب ایمان وہ ہے جو ہر چیز کو خدا کی چیز سمجھے، جو ہر ملی ہوئی چیز کو خدا کی طرف منسوب کرتے ہوئے خدا کا اعتراف کرے۔ دنیا میں انسان کو جو چیزیں ملتی ہیں، وہ بہ ظاہر خود اپنی کوشش کے ذریعے ملتی ہیں، لیکن یہ صرف اس کا ظاہری پہلو ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ ہر چیز مکمل طور پر خدا کا عطیہ ہوتی ہے۔ انسان کا امتحان یہ ہے کہ وہ ظاہری پردے کو پھاڑے، وہ اصل حقیقت کو دریافت کرتے ہوئے ہر ملی ہوئی چیز پر یہ کہہ دے کہ یہ میرے رب کا عطیہ ہے جو براہ راست طور پر خدا کی طرف سے مجھ کو دیا گیا۔ اِس اعتراف (acknowledgment) کا مذہبی نام شکر ہے۔ یہاں اُسی شخص کو جائز طور پر رہنے کا حق حاصل ہے جو شکر واعتراف کے نفسیات کے ساتھ اس دنیا میں رہے۔ شکر کی یہی نفسیات موجودہ دنیا میں کسی کو جائز طور پر جینے کا حق دیتی ہے۔ اس کے برعکس، جن لوگوں کے اندر ناشکری اور بے اعترافی کی نفسیات ہو، وہ خدا کی اس دنیا میں مجرم اور درانداز (intruders) کی حیثیت رکھتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader