Urdu book · کتابِ معرفت

ربانیات

Urdu book, p. 258

By Maulana Wahiduddin Khan

دریافت، دریافت، دریافت جاپان کی ایک مثل ہے کہ ہر دن کوئی نئی بات دریافت (discover) کرو، خواہ سوئی میں دھاگا ڈالنے کا نیا طریقہ ہی کیوں نہ ہو۔ یہ مثل مادی دریافتوں کے بارے میں ہے۔ یہی اصول زیادہ بڑے پیمانے پر معرفت (realization) اور روحانیت (spirituality) کے معاملے پر بھی منطبق ہوتا ہے۔ روحانیت اور معرفت کوئی جامد چیز نہیں۔ وہ درخت کی مانند ایک مسلسل ترقی پذیر چیز (growing entity) ہے۔ اصل یہ ہے کہ انسان کے دماغ میں لامحدود صلاحیت موجود ہے۔ انسانی دماغ کے باہر جو حقائق کی دنیا (universe of facts) ہے، وہ بھی لامحدود ہے۔ ایسی حالت میں جو آدمی اپنے ذہن کو مسلسل طور پر بیدار رکھے اور یکسوئی کے ساتھ غور وفکر کرتا رہے، وہ ہر دن بلکہ ہر لمحہ نئی حقیقتوں کو دریافت کرتا رہے گا۔ اس کے لیے دریافتوں کا خزانہ کبھی ختم نہ ہوگا۔ جس طرح مادی خوراک جسم کی غذا ہے، اُسی طرح روحانی دریافتیں معرفت کی غذا ہیں۔ مسلسل مادی خوراک جسم کی زندگی کی ضمانت ہے۔ اس طرح مسلسل روحانی دریافتیں کسی انسان کے لیے معرفت اور روحانیت کی زندگی اور ارتقا کی ضمانت ہیں۔ یہ دریافت گویا کہ ایک فکری پراسس (intellectual process) ہے۔ اس پراسس کو مسلسل طور پر جاری رکھنے کی شرطیں صرف دو ہیں غور وفکر کرنا، اور اپنے آپ کو ڈسٹرکشن سے بچانا۔ جس آدمی کے اندر یہ دو چیزیں پائی جائیں، وہ ضرور در یافتوں والا انسان بن جائے۔ اس کے بعد کوئی بھی چیز اس کو نئی دریافتوں تک پہنچنے سے روکنے والی نہیں۔ دریافت روح کی زندگی ہے، دریافت ذہن کے لیے ذریعہ ارتقا ہے۔ دریافت کسی انسان کو مکمل انسان بناتی ہے۔ دریافت کے بغیر کوئی انسان ایسا ہی ہے جیسے روح کے بغیر جسم۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page