ربانیات
Urdu book, p. 260
By Maulana Wahiduddin Khan
خدا اور انسان مسٹر اے اور مسٹر بی کے درمیان ایک پراپرٹی کے بارے میں نزاع ہوئی۔ مسٹر اے کا کہنا تھا کہ یہ پراپرٹی ان کی ہے اور مسٹر بی نے غلط کارروائی کر کے اُس پر ناجائز قبضہ کر لیا ہے۔ دونوں کے درمیان کافی بات چیت ہوئی، لیکن مسٹر بی اپنی غلطی ماننے پر تیار نہیں ہوئے۔ آخر کار مسٹر اے نے مسٹر بی سے کہا کہ اگر آپ خدا کی کتاب اپنے ہاتھ میں لے کر یہ کہہ دیں کہ یہ پراپرٹی آپ کی ہے، تو میں آپ کے دعوے کو مان لوں گا اور پراپرٹی پر آپ کا قبضہ تسلیم کر لوں گا۔ مسٹر بی نے اس کے جواب میں کہا اس میں خدا کہاں سے آ گیا: How does God come into the picture. موجودہ زمانے میں یہی تقریباً تمام لوگوں کا حال ہے۔ ہر ایک اپنی مرضی کے مطابق، جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے، اور جب اس کو خدا سے ڈرایا جائے تو وہ زبانِ حال یا زبانِ قال سے کہہ دیتا ہے کہ اس میں خدا کہاں سے آ گیا۔ یہ معاملہ صرف عوام کا نہیں ہے، بلکہ خواص بھی اسی میں مبتلا ہیں۔ مثلاً موجودہ زمانے میں جب طبیعی سائنس میں ترقی ہوئی اور فطرت کے قوانین دريافت کیے گئے، تو جدید تعلیم یافتہ طبقے نے عام طور پر، خدا کو کائنات سے خارج کر دیا۔ انھوں نے کہا جب سارے واقعات فطرت کے قوانین کے تحت ہو رہے ہیں، تو پھر کائنات کی توجیہہ کے لیے خدا کو ماننے کی کیا ضرورت۔ خدا اس دنیا کا خالق اور مالک ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ ساری تاریخ میں انسان، خدا کو وہ اہمیت نہ دے سکا جو اہمیت اس کو دینا چاہیے تھا۔ انسان کا اپنا وجود مکمل طور پر خدا کا عطیہ ہے۔ مال اور اولاد کی صورت میں جو کچھ بھی اس کے پاس ہے، وہ خدا کا دیا ہوا ہے۔ روشنی اور آکسیجن اور غذا اور پانی جیسی ان گنت چیزیں انسان کو مسلسل طور پر حاصل رہتی ہیں۔ ان چیزوں کا دینے والا بھی صرف خدا ہے۔ مگر اس سب سے بڑی حقیقت کا پوری تاریخ میں سب سے کم اعتراف کیا گیا ہے۔ انسان کے پاس خدا کو دینے کے لیے صرف ایک ہی چیز تھی اور وہ تھا اس کا اعتراف، مگر انسان اسی واحد چیز کو دینے میں ناکام ہو گیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader