ربانیات
Urdu book, p. 267
By Maulana Wahiduddin Khan
کیفیات، کمیات موجودہ زمانے میں بہت سی مسلم جماعتیں اور مسلم تنظیمیں وجود میں آئی ہیں۔ ان میں ایک اور دوسرے کے درمیان بہت سے فرق پائے جاتے ہیں۔ مگر ایک چیز سب میں مشترک ہے، اور وہ یہ کہ ہر ایک نے کسی نہ کسی پہلو سے اسلام کی کمیاتی تعبیر کر رکھی ہے۔ کیفیات پر مبنی تعبیر کے بجائے کمیات پر مبنی تعبیر میرے نزدیک سرتا سر گمراہی ہے۔ اس نے موجودہ زمانے میں زبردست نقصان پہنچایا ہے۔ کیفیاتی تعبیر کی صورت میں آدمی ہمیشہ اپنی دین داری کے بارے میں شک میں مبتلا رہتا ہے۔ کیوں کہ کیفیات ( تقویٰ، اور خشیت) داخلی چیزیں ہیں، ان کو ناپا اور تولا نہیں جاسکتا۔ لیکن کمیاتی تعبیر میں دین داری ایک ایسی چیز بن جاتی ہے جس کو خارجی اعتبار سے ناپا اور تولا جا سکے۔ اس کے نتیجے میں یہ ہوتا ہے کہ آدمی بے خوف ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے عمل کو ناپ تول میں ڈھال کر یہ سمجھ لیتا ہے کہ جو عمل مجھے کرنا تھا وہ میں نے کر دیا۔ کیفیت پر مبنی سوچ خدا کا خوف پیدا کرتی ہے اور کمیّت پر مبنی سوچ آدمی کے اندر فرضی یقین پیدا کر کے اس کو خدا سے بے خوف بنا دیتی ہے۔ اصحابِ رسول ہمیشہ لرزاں اور ترساں رہتے تھے۔ کیوں کہ ان کے نزدیک، دینِ داخلی کیفیت کا نام تھا، اور داخلی کیفیت کو ناپ تول کی زبان میں معلوم نہیں کیا جا سکتا۔ موجودہ زمانے کے مسلمان خدا سے بے خوف ہو گئے ہیں کیوں کہ وہ اپنے کمیاتی ذہن کی بنا پر سمجھتے ہیں کہ جو کچھ کرنا تھا وہ ہم نے کر دیا۔ اب ہمارا معاملہ بالکل درست ہے۔ سیاست پر مبنی تعبیر، مسائل پر مبنی تعبیر، فضائل پر مبنی تعبیر، برکت پر مبنی تعبیر، وسیلے پر مبنی تعبیر، عشقِ رسول پر مبنی تعبیر، مظاہرِ شرک پر مبنی تعبیر، خیر امت پر مبنی تعبیر، وغیرہ۔ یہ تمام تعبیریں ظواہرِ دین پر مبنی تعبیریں ہیں۔ دین مسلّم طور پر داخلی حقیقت کا نام ہے۔ اس لیے ہر وہ تعبیر دین جو ظواہر یا فارم پر مبنی ہو وہ بلا شبہ باطل قرار پائے گی، اور ظواہرِ دین پر چلنا خود ساختہ دین پر چلنا ہے نہ کہ خدا کے بھیجے ہوئے دین پر چلنا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader