Urdu book · کتابِ معرفت

ربانیات

Urdu book, p. 275

By Maulana Wahiduddin Khan

سے اس طرح جڑا ہوا ہوتا ہے کہ کسی چیز سے کبھی بھی اس کا ٹکراؤ نہیں ہوتا۔ درخت سایہ تلاش کرنے والے کے لئے سایہ مہیا کرتا ہے۔ وہ اپنے پاس سے گزرنے والوں کے لئے مہک اور سر سبز منظر کا تحفہ پیش کرتا ہے۔ جو شخص اس سے غذا حاصل کرنا چاہے، اس کے لئے اس کے پاس لذیذ پھل موجود ہوتا ہے، حتیٰ کہ جو لوگ اس کو کاٹ ڈالتے ہیں ان کو بھی وہ لکڑی مہیا کرتا ہے جس سے وہ اپنی مختلف تمدنی ضرورتوں کو پوری کریں۔ جب بھی تجربہ کا کوئی لمحہ آتا ہے تو درخت عین وہی ثابت ہوتا ہے جس کی اس سے امید کی گئی تھی۔ ان سب کے ساتھ درخت ایک ایسا وجود ہے جو زمین میں اپنی جڑیں داخل کر کے خود اپنے بل پر کھڑا ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ درخت کا تقریباً نصف حصہ سطح زمین کے نیچے ہوتا ہے اور نصف حصہ سطح زمین کے اوپر۔ وہ زمین کی تہوں میں اس طرح گڑا ہوا ہوتا ہے کہ کوئی اس کو اکھاڑ نہ سکے اور فضا میں وہ اس طرح بلند ہوتا ہے کہ کائنات کی تمام چیزوں سے بے روک ٹوک اپنا رزق حاصل کرے۔ قرآن میں مومن کی مثال درخت سے دی گئی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مومن کو کن صفات کا حامل ہونا چاہئے ۔ مومن وہ ہے جس کے اندر وہی صفتیں انسانی سطح پر موجود ہوں جو درخت کے اندر مادی سطح پر پائی جارہی ہیں۔ مومن کو وہی کام شعور کے تحت کرنا ہے جس کو درخت طبعی قانون کے تحت انجام دے رہا ہے۔ مومن کو خود اپنے ارادہ سے اسی سر سبز دنیا کی تخلیق کرنی ہے جس کو ایک درخت قانونِ فطرت کی پابندی کے تحت جبر اً وجود میں لاتا ہے۔ عام درخت مٹی کے اندر سے نکلتا ہے۔ مومن کا درخت روحانیت کی ربانی زمین پر اگتا ہے۔ ایک دنیا کے مادی اجزا سے بنتا ہے اور دوسرا عالم آخرت کے جنتی اجزا سے ۔ عام درخت مادی دنیا کا درخت ہے تو مومن انسانی دنیا کا درخت۔ درخت ایک نمو پذیر وجود ہے، اسی طرح مومن بھی ایک نمو پذیر وجود ہے۔ مومن وہ انسان ہے جو ربانی فکر کی بنا پر اس قابل ہو جاتا ہے کہ پوری کائنات اس کے لئے معرفت کا دستر خوان بن جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page