ذکر و دعا
Urdu book, p. 285
By Maulana Wahiduddin Khan
ذکر ایک تفکیری عمل قرآن میں امر کی زبان میں جو احکام دیے گئے ہیں، ان میں سے ایک حکم وہ ہے جس کے لیے ذکر کثیر کے الفاظ آئے ہیں۔ حکیم قرآن کی مختلف آیتوں میں ہے۔ ان میں سے ایک آیت یہ ہے: یأیہا الذین آمنوا اذکروا اللہ ذکراً کثیراً (33:41) یعنی اے ایمان والو، خدا کا بہت زیادہ ذکر کرو۔ ذکر کے لفظی معنی ہیں— یاد کرنا (to remember)۔ یاد ایک معنوی حقیقت ہے، نہ کہ صرف ایک لفظی حقیقت۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ انسان جب کسی کو یاد کرتا ہے تو وہ اس کو الفاظ کے وسیلے سے یاد کرتا ہے۔ مثلاً جب زید کو یاد کرنا ہو تو پہلے آدمی کے ذہن میں زید کا لفظ آئے گا۔ مگر یاد کے معاملے میں لفظ کی حیثیت صرف اضافی (relative) ہے، نہ کہ حقیقی (real)۔ اسی طرح، جب آپ زید کو یاد کریں تو آپ کے ذہن میں ایک انسان کا تصور آئے گا۔ اور جب آپ خداوند ذوالجلال کو یاد کریں تو فطری طور پر آپ کے ذہن میں اُس عظیم ہستی کا تصور آئے گا جو سارے زمین و آسمان کا خالق اور مالک ہے، جس کے آلاء (الاعراف، 7:74) اتنے زیادہ ہیں جن کا احاطہ نہیں کیا جاسکتا۔ اس طرح، ذکر میں اپنے آپ تفکر اور تدبر اور تعقل کا مفہوم شامل ہو جاتا ہے۔ حدیث کی مختلف کتابوں میں حضرت عائشہ کی یہ روایت آئی ہے: اِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ اللَّهَ عَلَى كُلِّ أَحْيَانِهِ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 373) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر موقع (occasion) پر اللہ کو یاد کرتے تھے۔ اس روایت کے مطابق، ذکر کثیر یہ ہے کہ ہر تجربہ اور مشاہدہ آدمی کے اندر خدا کی سوچ پیدا کر دے، اس کے اندر خدا رخی سوچ (God-oriented thinking) پیدا ہوجائے۔ پورا عالم کون (nature) اس کے لیے خدا کی یاد دلانے والا بن جائے ۔ یہ ذکر کثیر کسی قسم کے تکرار الفاظ کا نام نہیں۔ ذکر کثیر کا فطری طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنے ذہن کو اتنا زیادہ بیدار کرے کہ زندگی کے مختلف حالات کے درمیان وہ ہر چیز میں خدا کی یاد کا تجربہ کرنے لگے، ہر چیز اس کے لیے یاد الہی کا ذریعہ بن جائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader