Urdu book · کتابِ معرفت

ذکر و دعا

Urdu book, p. 290

By Maulana Wahiduddin Khan

مطالعہ قرآن کی اہمیت عبد اللہ بن عباس کا قول ہے: من قرأ القرآن لم يُردّ إلى أرذل العمر ( الترغیب والترہیب، حدیث نمبر 1435) یعنی جس نے قرآن کو پڑھا، وہ کبھی ناکارہ عمر تک نہیں پہنچے گا۔ اس اثر میں قرآن پڑھنے سے مراد قرآن کا مطالعہ ہے۔ جو آدمی قرآن کا گہرا مطالعہ کرے گا، اس کو قرآن سے مسلسل فکری غذا(intellectual food) ملتی رہے گی۔ یہ فکری غذا آدمی کو مسلسل توانائی دیتی رہے گی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ ناکارہ عمر (abject old age) تک نہیں پہنچے گا۔ اس کا ذہن مسلسل طور پر بیدار اور متحرک (active) رہے گا۔ ایسے آدمی کا جسم بوڑھا ہوگا، لیکن اس کا دماغ کبھی بوڑھا نہیں ہو سکے گا۔ ریسرچ کے ذریعے یہ معلوم ہوا ہے کہ انسان کے جسم اور دماغ میں ایک فرق ہے۔ خالص حیاتیاتی اعتبار سے جسم پر بڑھاپا آتا ہے، لیکن دماغ یا برین (brain) پر بڑھاپا نہیں آتا۔ کوئی آدمی اگر اپنے دماغ کو منفی سوچ (negative thinking) سے بچائے، وہ مکمل طور پر اس کو مثبت سوچ (positive thinking) کا حامل بنائے تو اس کے دماغ پر بڑھاپا نہیں آئے گا۔ کوئی شخص قرآن کا گہرا مطالعہ کرے تو اس کو ہر دن قرآن سے تخلیقی افکار کی غذا ملتی رہے گی۔ اس کو کبھی ذہنی فاقہ (intellectual starvation) کا تجربہ نہیں ہوگا۔ اس کا دماغ مسلسل طور پر سرگرم رہے گا، وہ مسلسل طور پر تخلیقی فکر سے بھرار ہے گا۔ مادی غذا جس طرح جسم کو طاقت دیتی ہے، اسی طرح فکری دریافتیں انسان کو توانائی عطا کرتی ہیں۔ انسان کے لیے سب سے زیادہ پرجوش تجربہ، دریافت (discovery) کا تجربہ ہوتا ہے۔ قرآن کا گہرا مطالعہ کرنے والے کو مسلسل طور پر اس قسم کا تجربہ ہوتا رہتا ہے۔ یہی تخلیقی تجربہ کسی آدمی کے لیے اس امر میں مانع بن جاتا ہے کہ وہ بڑھاپے کی عمر تک پہنچے اور عملاً ناکارہ ہو کر رہ جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page