Urdu book · کتابِ معرفت

ذکر و دعا

Urdu book, p. 294

By Maulana Wahiduddin Khan

تدبر قرآن قرآن کی سورہ ص میں بتایا گیا ہے کہ: كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ (29: 38) یعنی یہ قرآن ایک بابرکت کتاب ہے جو ہم نے تمھاری طرف اتاری ہے، تاکہ لوگ اس کی آیتوں پر غور کریں اور تا کہ عقل والے اس سے نصیحت حاصل کریں۔ اس آیت میں تدبر سے مراد تفکر ہے۔ تفکر کیا ہے، تفکر دراصل عقل کو استعمال کرنے کا دوسرا نام ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کو پڑھتے ہوئے اپنی عقل کو کھلا رکھو، کیوں کہ عقلی غور و فکر کے ذریعے ہی کسی کو قرآن سے معنوی نصیحت ملتی ہے، نہ کہ محض لفظی تلاوت سے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی جب قرآن کی تلاوت کرے تو اُس وقت وہ اپنی عقل کو استعمال کرتے ہوئے اس کی تلاوت کرے۔ اسی طرح جب وہ نماز میں قرآن کا کوئی حصہ پڑھے تو وہاں بھی وہ اپنی عقل و فہم کو کھلا رکھتے ہوئے قرآن کی تلاوت کرے۔ کوئی شخص جب اس طرح قرآن کی تلاوت کرے گا تو بار بار ایسا ہوگا کہ قرآن کی کوئی آیت یا قرآن کا کوئی لفظ اس کی عقل کو اسٹرائیک (strike) کرے گا۔ ایسے موقع پر آدمی کو چاہیے کہ وہ ٹھہر کر اُس پر غور کرے۔ اس طرح اس کو قرآن سے نصیحت کی غذا ملتی رہے گی۔ مثال کے طور پر قرآن کو پڑھتے ہوئے یہ آیت آپ کے سامنے آئی: فَأَثَابَهُمُ اللَّهُ بِمَا قَالُوا جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ (85: 5) ۔ اس آیت کو پڑھتے ہوئے آپ کو یہ حدیث یاد آئی : من قال لا إله إلا الله، دخل الجنة (سنن الترمذی، حدیث نمبر (2638) ۔ اس کے بعد آپ نے سوچا کہ دونوں آیتوں میں مطابقت کیا ہے۔ پھر غور کرنے کے بعد آپ کی سمجھ میں آئے گا کہ حدیث میں جس قول“ کا ذکر آیا ہے، اس کی تشریح قرآن سے ہوتی ہے، یعنی حدیث میں جس قول پر جنت کا وعدہ کیا گیا ہے، اْس سے مراد قول معرفت ہے، نہ کہ محض لفظی قول۔ یہی وہ چیز ہے جس کو تدبر اور تفکر (contemplation) کہا گیا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page