ذکر و دعا
Urdu book, p. 302
By Maulana Wahiduddin Khan
ذکر اور دعا حضرت عائشہ کی ایک روایت ہے جو حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ اللَّهَ عَلَى كُلِّ أَحْيَانِهِ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 373) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر موقع پر اللہ کا ذکر کرتے تھے۔ اس روایت کو اکثر محدثین نے ابواب طہارت کے تحت نقل کیا ہے۔ مگر اس روایت کا مسائل عبادت سے کوئی تعلق نہیں۔ اسی طرح کچھ لوگوں نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ بار بار آدمی کی زبان سے بسم اللہ، الحمد للہ، ان شاء اللہ، ماشاء اللہ اور اسی طرح کے دوسرے مقر ر کلمات نکلتے رہیں، مگر یہ شرح بھی اس حدیث کی حقیقی معنویت کو بیان نہیں کرتی۔ اصل یہ ہے کہ ذکر اور دعا صاحب معرفت انسان کے تخلیقی کلمات ہیں۔ انسان کی زندگی میں بار بار مختلف قسم کے مواقع یا احیان (occasions) پیش آتے ہیں۔ اگر آدمی کے اندر سوچنے کی اور توسُّم کرنے کی صلاحیت ہو تو وہ پالے گا کہ ان مواقع پر خدا کی یاد کا کوئی نہ کوئی پہلو موجود ہے۔ آدمی ان مواقع کو پوائنٹ آف ریفرنس (point of reference) بنا کر اُن کو اعلیٰ درجے کی کیفیت ذکر اور کیفیت دعا میں تبدیل کر سکتا ہے۔ حضرت عائشہ نے پیغمبر اسلام کی زندگی میں یہی بات پائی تھی۔ انھوں نے دیکھا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر موقع کو پوائنٹ آف ریفرنس بنا کر اللہ کا ذکر کرتے ہیں یا اللہ سے دعا فرماتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ذکر اور دعا کچھ یاد کئے ہوئے الفاظ کو دہرانے کا نام نہیں، ذکر اور دعا یہ ہے کہ مختلف مواقع اور مختلف حالات آدمی کے لیے اللہ کو یاد دلانے والے (reminder) بن جائیں، ہر واقعے اور ہر تجربے کو وہ اللہ سے ریلیٹ (relate) کر کے دیکھ سکے، ہر تجربے میں اس کو خدا کی خدائی کا کوئی پہلو نظر آجاۓ۔ اس طرح کے شعوری احساس کے تحت جو الفاظ آدمی کی زبان پر جاری ہوجائیں، انھیں کا نام ذکر اور دعا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader