ذکر و دعا
Urdu book, p. 308
By Maulana Wahiduddin Khan
کلمۂ معرفت صحیح البخاری میں روایات کی کل تعداد (مکررات سمیت) 7563 ہے۔ اس مجموعہ کی آخری حدیث یہ ہے: کلمتان حبیبتان إلى الرحمن، خفیفتان علی اللسان، ثقیلتان في المیزان : سبحان الله وبحمده، سبحان الله العظیم (دو کلمے رحمن کو بہت محبوب ہیں، وہ زبان پر ہلکے ہیں مگر وہ میزان میں بھاری ہیں۔ وہ دو کلمے یہ ہیں: سبحان الله وبحمده، سبحان الله العظیم)۔ اس حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سبحان الله وبحمده، سبحان الله العظیم کے الفاظ میں پر اسرار خواص (mysterious qualities) چھپے ہوئے ہیں اور ان الفاظ کو زبان سے ادا کرتے ہی طلسماتی طور پر ان کے یہ خواص ظاہر ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح اس حدیث کا یہ مطلب بھی نہیں کہ سبحان الله وبحمده، سبحان الله العظیم کے الفاظ میں پر اسرار طور پر وزن چھپا ہوا ہے اور قیامت کے ترازو میں رکھتے ہی وہ پلڑے کو جھکا دیں گے۔ ترازو کی تُول میں ان الفاظ کا بھاری ہونا در اصل تمثیل کی زبان میں ہے، نہ کہ حقیقت کی زبان میں۔ اس سے مراد اس کلمہ کا معنوی وزن ہے، نہ کہ مادی وزن۔ اصل یہ ہے کہ انسان کے تمام اعمال میں سب سے بڑا عمل خدا کی معرفت ہے، یعنی خداوندِ عالم کو شعوری طور پر دریافت کرنا اور اس دریافت کا انسان کی پوری شخصیت میں اُتر جانا۔ سبحان الله وبحمده، سبحان الله العظیم دراصل معرفت خداوندی کے کلمے ہیں۔ جب ایک انسان خدا کی ذات کو اس حیثیت سے دریافت کرتا ہے کہ وہ ہمہ تن پاک ہے، وہی ہر قسم کی تعریف اور شکر کا مستحق ہے، وہ تمام عظمتوں کا تنہا مالک ہے۔ یہ دریافت جب شدتِ یقین کے ساتھ کسی انسان کی زبان پر ایک شعوری اظہار کے طور پر جاری ہو جائے تو وہ کائنات کا سب سے بڑا عمل ہوتا ہے۔ وہ اتنا عظیم ہوتا ہے کہ ہر دوسری چیز اس کے مقابلہ میں چھوٹی قرار پائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader