Urdu book · کتابِ معرفت

ذکر و دعا

Urdu book, p. 314

By Maulana Wahiduddin Khan

جذبہ شکر کی حفاظت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ارشاد حدیث کی مختلف کتابوں (البخاری، مسلم، الترمذی، ابن ماجہ، وغیرہ میں آیا ہے۔ مسند احمد کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: انظروا إلى من هو أسفل منكم، ولا تنظروا إلى من هو فوقكم، فإنه أجدر أن لا تزد روا نعمة الله عليكم (مسند احمد، حدیث نمبر 10246) یعنی تم اس کو دیکھو جو تم سے نیچے ہے اور تم اس کو نہ دیکھو جو تم سے اوپر ہے، کیوں کہ اس طرح تم اپنے اوپر اللہ کی نعمت کو کم نہیں سمجھوگے۔ اس حدیث کی مزید تشریح ایک اور حدیث سے ہوتی ہے۔ ایک مرفوع روایت کے مطابق، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: خصلتان من كانتا فيه كتبه الله شاكر أصابراً: من نظر فى دنياه إلى من هو دونه فحمد الله على ما فضله به عليه، ومن نظر فى دينه إلى من هو فوقه فاقتدى به۔ و أما من نظر فى دنياه إلى من هو فوقه فأسف على ما فاته فإنه لا يكتب شاكرا ولا صابرا (فتح الباری، (11/330) یعنی دو صفتیں ہیں جو کسی شخص کے اندر ہوں تو اللہ اس کو شاکر اور صابر لکھ دیتا ہے۔ جو دنیا کے معاملے میں اُس کو دیکھے جو اس سے کم ہے پھر وہ اللہ کا شکر کرے اُس نعمت پر جو اللہ نے اسے دی ہے۔ اور جو اپنے دین کے معاملے میں اُس کو دیکھے جو اس کے اوپر ہے پھر وہ اس کی پیروی کرے۔ مگر جو اپنی دنیا کے معاملے میں اس کو دیکھے جو اس کے اوپر ہے، پھر وہ اس پر افسوس کرے جو اس سے کھویا گیا تو وہ نہ شاکر لکھا جائے گا اور نہ وہ صابر لکھا جائے گا۔ شکر سب سے بڑی عبادت ہے۔ کسی بندے سے جو چیز سب سے زیادہ مطلوب ہے، وہ یہ ہے کہ وہ اللہ کو ایک عظیم منعم کے طور پر دریافت کرے۔ اللہ کی نعمتوں کے احساس سے اس کا سینہ بھرا ہوا ہو۔ اس کی روح میں شکر کا ابدی چشمہ جاری ہو جائے۔ وہ اللہ کو ایک ایسی ہستی کے طور پر پائے جو اس پر بے پایاں نعمتوں کی بارش کر رہا ہے۔ یہ شعور اتنا زیادہ قوی ہو کہ کسی بھی حال میں اس کا سینہ شکر خداوندی کے احساس سے خالی نہ ہو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page