معرفت الہی
Urdu book, p. 32
By Maulana Wahiduddin Khan
اعلیٰ معرفت کا ذریعہ اعلیٰ معرفت ہمیشہ اعلیٰ سوچ (high thinking) کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔ خدا کے بارے میں، خدا کے کلام کے بارے میں، خدا کی تخلیقات کے بارے میں، آدمی جتنا زیادہ گہرائی کے ساتھ سوچے، اتناہی زیادہ گہری معرفت تک وہ پہنچے گا۔ معرفت کا فارمولا ایک لفظ میں یہ ہے بی جتنی گہری سوچ، اتنی ہی گہری معرفت۔ قرآن میں اس گہری سوچ کے لیے مختلف الفاظ آئے ہیں۔ مثلاً تفکر، تدبّر، توسم اور تعقل، وغیرہ۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی ہر چیز کے اندر غور و فکر کا سامان موجود ہے، خواہ وہ چھوٹی ہو یا بڑی۔ اگر چیزوں کو سادہ طور پر نہ لیا جائے، بلکہ اُن پر سنجیدگی کے ساتھ غور کیا جائے تو ہر چیز آدمی کے لیے معرفت کی غذا بن جائے گی۔ اسی حقیقت کو فارسی شاعر نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے: برگ درختان سبز، در نظر ہوشیار ہر ورق دفتریست، معرفت کردگار مثلاً آدمی روزانہ زمین پر چلتا ہے، مگر وہ سوچتا نہیں۔ اگر وہ سوچے تو یہ چلنا اس کے لیے معرفت کا خزانہ بن جائے۔ زمین پر چلنا بظاہر ایک سادہ بات ہے، مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے، وہ ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔ چلنے کا یہ واقعہ خالق کا ایک انوکھا معجزہ ہے۔ یہ چلنا اس لیے ممکن ہوتا ہے کہ بے شمار اسباب نہایت ہم آہنگی کے ساتھ ہماری مدد کر رہے ہوتے ہیں بی زمین کی بے حد متوازن قوت کشش (well balanced gravity)، ہمارے جسم کے اوپر چاروں طرف سے ہوا کا دباؤ۔ ہوا کا یہ دباؤ ہمارے جسم کے ہر مربع انچ پر تقریباً آٹھ کلو گرام کے برابر ہوتا ہے، اور پورے جسم پر مجموعی طور پر تقریباً 10 ہزار کلو گرام کے برابر۔ جب انسان زمین پر چلتا ہے تو اُس کو غیر منقطع طور پر مسلسل آکسیجن فراہم کیا جا رہا ہوتا ہے، وسیع خلا سے سورج ہماری راہوں کو روشن کرتا رہتا ہے۔ اس طرح کے ان گنت اسباب ہیں جو براہ راست یا بالواسطہ طور پر ہمارے مددگار بنے رہتے ہیں، تب یہ ممکن ہوتا ہے کہ انسان زمین پر چلے اور کامیابی کے ساتھ اپنی منزل پر پہنچ جائے۔ ہماری دنیا میں اس طرح کی بے شمار چیزیں ہیں۔ ان چیزوں پر غور و فکر کرنا ہی اعلیٰ معرفت کے حصول کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader