ذکر و دعا
Urdu book, p. 335
By Maulana Wahiduddin Khan
شکر خداوندی لوگوں سے بات کیجیے تو ہر آدمی شکایت (complaint) کی بولی بولے گا۔ ہر آدمی منفی باتیں کرے گا۔ یہ شکایت یا منفی باتیں کس کے خلاف ہیں، یہ سب کی سب انسان کے خلاف ہیں۔ ہر ایک کی شکایت کا نشانہ کوئی انسان یا کوئی قوم یا کوئی انسانی گروہ ہوگا۔ یہی ہر جگہ کے لوگوں کی عام حالت ہے— یہی وہ چیز ہے جس نے لوگوں کو شکر خداوندی کے احساس سے نا آشنا بنا دیا ہے۔ جن واقعات کو لے کر لوگ شکایتیں کرتے ہیں، وہ انسان ساز (man-made) واقعات ہیں۔ مگر یہ واقعات پوری انسانی زندگی کا ایک فی صد سے بھی کم حصہ ہوتے ہیں۔ دوسرے واقعات وہ ہیں جن کو خدا ساز (God-made) واقعات کہا جا سکتا ہے۔ یہ خدائی واقعات اپنی مقدار میں بہت زیادہ ہیں، حتیٰ کہ ننانوے فی صد سے بھی زیادہ۔ اس فرق کو سامنے رکھتے ہوئے غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ لوگوں کا حال یہ ہے کہ جو انسانی واقعات ایک فی صد سے بھی کم ہیں، اُنھیں کے بارے میں لوگ سوچتے ہیں اور انھیں کا چرچا کرتے ہیں، وہ انھیں سے اپنی رائے بناتے ہیں۔ اس کے برعکس، جو خدائی واقعات یا خدائی نعمتیں (divine bounties) انسان کو ملی ہوئی ہیں، جن کی مقدار ننانوے فی صد سے بھی زیادہ ہے، اُن کا کوئی چرچا نہیں۔ اُن کے بارے میں نہ کوئی سوچتا اور نہ ان کا اعتراف کرتا ہے۔ لوگوں کی شکایتی نفسیات کا اصل سبب یہی ہے۔ لوگ صرف انسانی واقعات کو جانتے ہیں، اس لیے وہ منفی بات کرتے رہتے ہیں۔ اس کے برعکس، اگر وہ خدائی واقعات کو جانیں تو وہ اُن کو اتنا زیادہ نظر آئیں گے کہ اُن کے مقابلے میں انسانی واقعات ناقابل تذکرہ بن جائیں گے۔ اگر ایسا ہو تو یقینی طور پر یہ ہوگا کہ لوگ انسانی شکایتوں کو بھول جائیں گے۔ خدا کی نعمتوں کو سوچ کر وہ اتنا زیادہ سرشار رہیں گے کہ انھیں یاد ہی نہ رہے گا کہ اُن کے ساتھ کسی نے قابل شکایت بات کی ہے۔ یہی وہ سوچ ہے جو کسی آدمی کے اندر الحمد للہ کی سچی اسپرٹ پیدا کرتی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader