Urdu book · کتابِ معرفت

اسماء حسنی اور اسمِ اعظم

Urdu book, p. 346

By Maulana Wahiduddin Khan

میں اس کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: أحصى الشيئ : أي عرف قدره - ایسی حالت میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ یہاں احصاء سے مراد احصاء شعوری ہے، نہ کہ احصاء لسانی، یعنی اسماء حسنیٰ کی معرفت۔ اللہ کے یہ نام دراصل اللہ کی صفات کے مختلف پہلو ہیں۔ آدمی خدا پر اور اس کی تخلیقات پر غور کرتا ہے تو خدا کی خدائی کے مختلف پہلو اس کے سامنے آتے ہیں۔ انھیں پہلوؤں کا شعوری ادراک ہونا، اُن کا احصا کرنا ہے۔ اور جو لوگ اس اعتبار سے خدا کی معرفت حاصل کریں، وہ بلا شبہ جنت میں جائیں گے، کیوں کہ جنت دراصل معرفتِ خداوندی کی قیمت ہے۔ حدیث میں ننانوے کا لفظ محض اعتباری ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے بے شمار نام ہیں۔ امام رازی نے اپنی تفسیر میں بعض علماء سے نقل کیا ہے کہ: إن للہ خمسة آلاف اسم۔ یعنی اللہ کے پانچ ہزار نام ہیں۔ (تفسیر ابن کثیر، جلد 1، صفحہ 19)، مگر حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے بے شمار نام ہیں۔ حدیث میں اسماء حسنیٰ کی تعداد ننانوے بتائی گئی ہے قرآن کا مطالعہ کرکے علما نے یہ تمام اسماء حسنیٰ نام بہ نام دریافت کیے ہیں، لیکن یہ نام خدا کے لامتناہی کمالات کی مطلق گنتی کو نہیں بتاتے۔ یہ تمام نام دراصل انسان کی نسبت سے ہیں۔ اصل یہ ہے کہ انسان کے اندر جب عبدیت جاگتی ہے اور شعورِ خداوندی اُس کے اندر بیدار ہوتا ہے تو فطری طور پر اُس کے اندر مختلف قسم کی ربانی کیفیات پیدا ہونے لگتی ہیں۔ اسماء حسنیٰ دراصل، انھیں ربانی کیفیات کے لیے موزوں الفاظ (appropriate words) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مثلاً انسان اپنے وجود پر غور کرتا ہے، جو کہ احسن تقویم کا نمونہ ہے (95:4)۔ وہ نیچر پر غور کرتا ہے، جس میں ہر چیز حیرت انگیز طور پر اپنے آخری ماڈل پر ہے ۔ وہ زمین اور آسمان پر غور کرتا ہے، جس میں کہیں کوئی خلل یا نقص موجود نہیں (67:3) ۔ یہ سوچ اور یہ مشاہدہ آدمی کے اندر ایک پُر موج تجربہ (thrilling experience) پیدا کرتا ہے۔ اُس وقت آدمی بے اختیارانہ طور پر یہ چاہنے لگتا ہے کہ اُس کے پاس ایسے موزوں الفاظ ہوں، جن کے ذریعے وہ ان لطیف احساسات کا اظہار (express) کر سکے۔ اُس وقت، قرآن اُس کی عین طلب کے مطابق، اُس کو یہ الفاظ فراہم کر دیتا ہے: فتبارك الله أحسن الخالقين (23:14) ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page