اسماء حسنی اور اسمِ اعظم
Urdu book, p. 352
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے: اللہ لا إله إلا هو الحي القيوم (3:2) تو وہ عین فطری مانگ کے مطابق، فورا خدا کا ایک حقیقی ماڈل پال لیتا ہے۔ اس کے بعد فطری طور پر ایسا ہوتا ہے کہ انسان اور خدا کے درمیان ایک زندہ تعلق قائم ہو جاتا ہے۔ اس اعتبار سے اسماء حسنیٰ، خدا اور انسان کے درمیان تصوراتی ربط (contact at conceptual level) کا زندہ اور حقیقی ذریعہ ہیں۔ وہ انسان کی فطری تلاش کا ایک بھر پور جواب (complete response) ہیں۔ اسماء حسنیٰ، انسان کے لیے خدا کا مستند تعارف ہیں۔ اسماء حسنیٰ کے ذریعے انسان، خدا کی صفاتی شخصیت کا یقینی تصور اپنے ذہن میں لاسکتا ہے۔ اسماء حسنیٰ خدا کا وہ تصوراتی ماڈل ہیں جو کسی انسانی قیاس پر قائم نہیں ہیں، بلکہ وہ خود خدا کے الہامی علم پر قائم ہیں۔ وہ اعتقادی بے یقینی میں بھٹکے ہوئے انسان کو یقین کا سر چشمہ عطا کرتا ہے۔ اسماء حسنیٰ کے ذریعے انسان اُس صحیح فریم ورک کو پالیتا ہے جس کی روشنی میں وہ خدا کو اپنے لیے پوری طرح قابل فہم (understandable) بنا سکے۔ اسماء حسنیٰ اور دیگر مذاہب اسماء حسنیٰ کا مطالعہ تاریخی نقطہ نظر سے کیا جائے تو ایک انوکھی چیز دریافت ہوگی، وہ یہ کہ اسماء حسنیٰ کا تصور (concept) اسلام کے سوا کسی اور موجودہ مذہب یا کسی اور موجودہ اعتقادی نظام میں نہیں پایا جاتا۔ یہ اسلام کی استثنائی صفت ہے کہ اُس کے اندر خدا کے بارے میں اسماء حسنیٰ کا تصور پایا جاتا ہے۔ یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ اگر آپ اسلام اور دوسرے مذاہب کا تقابلی مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے یہ بے حد سنگین بات ہے۔ چناں چہ اسی کا نتیجہ ہے کہ اسلام کے سوا، دوسرے مذاہب میں انسان اور خدا کے درمیان گہرا تعلق سرے سے نہیں پایا جاتا۔ ہر دوسرے مذہب میں خدا کی حیثیت صرف ایک علامتی ہستی (symbolic god) کی ہے، نہ کہ ایک حقیقی اور زندہ خدا کی۔ مثال کے طور پر یہودی مذہب کو لیجیے۔ یہودی اعتقادیات کا ماخذ بائبل (عہد نامہ قدیم) ہے۔ آپ اس کتاب کا مطالعہ کریں تو اُس میں اسماء حسنیٰ کی نوعیت کا خداوندی تعارف موجود نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader