Urdu book · کتابِ معرفت

اسماء حسنی اور اسمِ اعظم

Urdu book, p. 363

By Maulana Wahiduddin Khan

عینہ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1423) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے، یعنی آدمی نے اپنی تنہائی میں خدا کو یاد کیا اور شدتِ تاثر سے اُس کی آنکھوں سے آنسو بہہ پڑے۔ اُس نے دنیا کے امتحان کے بارے میں سوچا، اُس نے موت اور روزِ حساب کا گہرا ادراک کیا، وہ اُن ربانی کیفیات سے گزرا، جب کہ انسان کو جہنم کے شعلے بھڑکتے ہوئے نظر آتے ہیں اور دوسری طرف اُس کو جنت کے ابدی مناظر دکھائی دینے لگتے ہیں۔ جب اُس پر یادِ خداوندی کا وہ گہرا تجربہ گزرتا ہے، جب کہ سب کچھ اس کی نظروں سے محو ہو جاتا ہے، خدا کے سوا ہر چیز اُس کی نظر میں بے حقیقت بن جاتی ہے۔ ایسے طوفان خیز لمحات میں یہ ہوتا ہے کہ اُس کے دل و دماغ میں ایک بھونچال آ جاتا ہے۔ اُس کی آنکھوں سے خوفِ خدا کا سمندر اُمڈ پڑتا ہے۔ جب سوچنے کی صلاحیت بظاہر ختم ہو جاتی ہے اور صرف محسوس کرنے کی صلاحیت باقی رہتی ہے۔ اُس وقت ایسا ہوتا ہے کہ انسان بے تابانہ طور پر اپنے رب کو پکارنے لگتا ہے۔ اُس کے اندر چھپی ہوئی ربانی فطرت الفاظ کی صورت میں بہہ پڑتی ہے۔ ایسے طوفانی لمحات میں آدمی کی زبان سے جو کچھ نکلتا ہے، اُسی کا نام دعا ہے۔ یہی وہ دعا ہوتی ہے جو اسمِ اعظم کی زبان میں نکلتی ہے اور ایسی دعا ہمیشہ اپنی پہلی زبان میں ہوتی ہے، نہ کہ اپنی دوسری زبان میں۔ ایک واقعہ میری ملاقات ایک صاحب سے ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ میں دس سال سے ایک سوال کا جواب تلاش کر رہا ہوں، لیکن اب تک مجھے اُس کا جواب نہیں ملا۔ میں نے پوچھا کہ آپ کا وہ کیا سوال ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ اسمِ اعظم کیا ہے۔ اس سلسلے میں، میں نے بہت سی کتابیں پڑھیں، بہت سے علما اور بزرگوں سے ملاقاتیں کیں، مگر اب تک کسی نے اس کا تشفی بخش جواب نہیں دیا۔ اب میں آپ کے پاس آیا ہوں۔ اگر ممکن ہو تو آپ مجھے اس کا جواب دے کر میری پریشانی کو دور فرمائیں۔ میں نے کہا آپ کی پریشانی ایک خود ساختہ پریشانی ہے۔ آپ نے یہ فرض کر لیا ہے کہ اسمِ اعظم جادو کے منتر کی طرح کوئی منتر ہے۔ اب آپ چاہتے ہیں کہ منتر کا وہ لفظ آپ کو معلوم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page