محبت الہی
Urdu book, p. 394
By Maulana Wahiduddin Khan
الحب للہ انسان کے اندر سب سے زیادہ طاقت ور جذبہ محبت کا جذبہ ہے۔ انسان جب کسی چیز کو اپنا سب سے بڑا اکثرن (supreme concern) بنائے تو اس کے بعد فطری طور پر ایسا ہوتا ہے کہ اس کے محبت کے جذبات اس چیز سے وابستہ ہو جاتے ہیں۔ مذہبی اصطلاح میں اسی کو معبود بنانا‘ کہا جاتا ہے۔ جس چیز سے آدمی سب سے زیادہ محبت کرے، وہی اس کا معبود ہے، خواہ وہ اس کے لیے محبت کا لفظ بولے یا نہ بولے۔ ایمان باللہ یہ ہے کہ آدمی اللہ کو اس طرح دریافت کرے کہ اللہ ہی سے اس کو سب سے زیادہ محبت ہو جائے ۔ اسی کو قرآن میں الَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ (165: 2) کہا گیا ہے۔ جو آدمی اللہ سے سب سے زیادہ محبت کرنے لگے، وہی وہ شخص ہے جس نے اللہ کو اپنا معبود بنایا۔ جس آدمی کے اندر اللہ کے لیے حقیقی محبت پیدا ہو جائے ، اُس کے اندر سے یہ محبت مختلف شکلوں میں ظاہر ہونے لگے گی۔ ظہور کی اِنہیں مختلف شکلوں کو قرآن میں حمد اور شکر اور ذکر جیسے الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ محبت ہی دراصل تعلق باللہ کی اصل ہے۔ اس اعتبار سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ الحمد للہ کا مطلب ہے: الحب للہ۔ الشکر للہ کا مطلب ہے: الحب للہ۔ اسی طرح اللہ کے لیے ذکر کثیر کا مطلب ہے: اللہ کے لیے محبت کثیر۔ قرآن میں آیا ہے اللہ کے ذکر سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے (الرعد، 13:28)۔ اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ صرف اللہ کی محبت ہی وہ چیز ہے جس کے ذریعے انسان کو حقیقی معنوں میں اطمینانِ قلب عطا ہوتا ہے : Love of God alone gives the peace of mind. اللہ پر ایمان، اللہ کی دریافت (discovery) سے شروع ہوتا ہے۔ اسی دریافت کو قرآن میں معرفت کہا گیا ہے۔ حقیقی معرفت وہ ہے جو آدمی کے پورے وجود میں شامل ہو جائے۔ جب ایسا ہوتا ہے تو اس سے وہ تمام اعلیٰ مظاہر پیدا ہوتے ہیں جن کو محبت اور شکر اور ذکر جیسے الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader