Urdu book · کتابِ معرفت

محبت الہی

Urdu book, p. 400

By Maulana Wahiduddin Khan

الحمد لله قرآن کی پہلی آیت یہ ہے: الحمد لله رب العالمین (1:1) ۔ ان الفاظ کو اگر صرف زبان سے ادا کرنا ہو تو آدمی ایک لمحے میں اُس کو زبان سے دہر اسکتا ہے۔ لیکن حقیقی معرفت کی بنیاد پر ان الفاظ کا زبان سے نکلنا اتنا عظیم ہے کہ اُس سے زیادہ عظیم اور کوئی چیز نہیں۔ اس لیے حدیث میں آیا ہے : الحمد لله تملأ الميزان (صحیح مسلم ، حدیث نمبر 223)۔ یعنی الحمد للہ آدمی کی میزان عمل کو بھر دیتا ہے۔ ایک انسان جب سوچتا ہے کہ پندرہ بلین سال پہلے موجودہ کائنات شروع ہوئی ۔ اُس وقت سے اب تک وہ توسیع پذیر ہے۔ یہ سوچ آدمی کے اندر دہشت انگیز عظمت کا احساس طاری کر دیتی ہے۔ پھر جب انسان اپنی تخلیق پر سوچتا ہے تو وہ پاتا ہے کہ میرا وجود ایک ایسا معجزاتی وجود ہے جس کے ایک انتہائی قلیل جزء کو بھی میں پیدا نہیں کر سکتا۔ پھر وہ انسان سوچتا ہے کہ خلا (space) سے خدا اس کے لیے سورج کی روشنی اور حرارت بھیج رہا ہے۔ ہواؤں کے ذریعے آکسیجن کی فراہمی کا ایک مسلسل نظام قائم ہے۔ زمین سے طرح طرح کی غذائیں پیدا ہورہی ہیں۔ زمین میں انتہائی متناسب قوت کشش اُس کو مسلسل طور پر سنبھالے ہوئے ہے۔ اس کے ارد گرد ایک مکمل قسم کا لائف سپورٹ سسٹم قائم ہے، وغیرہ۔ اس قسم کی باتوں کو سوچتے ہوئے آدمی کو محسوس ہوتا ہے کہ جیسے وہ شکر خداوندی کے سمندر میں داخل ہوگیا ہے۔ اس کی روح ایک عظیم ربانی طوفان (divine storm) سے دوچار ہورہی ہے۔ اس کے دماغ میں اہتزاز (thrill) کا چشمہ جاری ہوگیا ہے۔ یہ ناقابل بیان ربانی احساسات جب ایک انسان کی زبان سے کائناتی اعتراف کی صورت میں بے تابانہ طور پر نکل پڑیں تو اسی کا نام حمد خداوندی ہے۔ حمد خداوندی کے یہی وہ احساسات ہیں جو قرآن میں اس طرح بیان کئے گئے ہیں : الحمد لله رب العالمين (ساری حمد اللہ رب العالمین کے لیے ہے)۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page