محبت الہی
Urdu book, p. 408
By Maulana Wahiduddin Khan
معرفت کے دو درجے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ۔ میرے رب نے مجھے پیش کش کی کہ وہ مکہ کی وادی کو میرے لیے سونا بنا دے۔ میں نے کہا کہ اے میرے رب، نہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ میں ایک دن سیر ہو کر کھاؤں اور ایک دن بھوکا رہوں۔ پھر جب مجھے بھوک لگے تو میں تجھ سے تضرع کروں اور تجھ کو یاد کروں، اور جب میں شکم سیر ہوں تو تیری حمد کروں اور تیرا شکر کروں (فإذا جعت تضرعت إليك وذكرتك، وإذا شبحت حمدتك وشكرتك ) - سنن الترمذی، حدیث نمبر 2347 اس حدیث سے پیغمبر کی معرفت کا درجہ معلوم ہوتا ہے۔ پیغمبر کی معرفت شعور کی سطح پر ہوتی ہے۔ پیغمبر کسی دباؤ کے بغیر ذاتی ارادے کے تحت وہ فیصلہ کرتا ہے جس کی ایک مثال مذکورہ روایت میں نظر آتی ہے۔ معرفت کے اس درجے کو ایک لفظ میں اختیاری عجز کہا جا سکتا ہے۔ معرفت کا دوسرا درجہ وہ ہے، جب کہ اللہ اپنے کسی بندے کے ساتھ یہ رحمت فرمائے کہ اُس کو مجبورانہ حالات میں ڈال دے اور اس طرح اضطراری طور پر اس کو حمد و شکر کا تجربہ کرائے۔ غالباً یہی وہ بات ہے جس کو ایک حدیث میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: إن الله إذا أحب قوما ابتلاهم (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2396)۔ یعنی جب اللہ کسی سے محبت کرتا ہے تو وہ اس کو آزمائش میں ڈال دیتا ہے۔ گویا کہ پیغمبر کی معرفت اختیاراتہ سطح پر ہوتی ہے، اور غیر پیغمبر کی معرفت مجبورانہ سطح پر۔ فانی بدایونی (وفات 1940) ایک عارف شاعر تھے۔ اُن کا کلام دوسرے شاعروں سے بہت مختلف ہے۔ فانی بدایونی کا حسب ذیل شعر غالباً معرفت کی اسی دوسری قسم کو بتاتا ہے: میری ہوس کو عیش دو عالم بھی تھا قبول تیرا کرم کہ تو نے دیا دل دُکھا ہوا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader