محبت الہی
Urdu book, p. 421
By Maulana Wahiduddin Khan
خدا کی یاد خدا کو یاد کرنا بلاشبہ سب سے بڑی عبادت ہے۔ مگر خدا کی یاد کا مطلب تسبیح کے دانوں پر اللہ اللہ پڑھنا نہیں ہے۔ خدا کو یاد کرنا یہ ہے کہ آدمی کا ذہن اتنا زیادہ جاگ اٹھے کہ ہر مخلوق کو وہ خالق سے ریلیٹ (relate) کر سکے، ہر چیز میں اس کو خدا کی یاد آنے لگے۔ ایک صاحب کا واقعہ ہے۔ وہ اپنے ساتھی کے ہم راہ شہر کی ایک سڑک سے گزرے۔ راستے میں کھلونے کی ایک دکان تھی۔ کھلونے کی اس دکان پر پہنچ کر وہ ایک لمحے کے لیے وہاں رکے۔ انھوں نے دکان کی طرف دیکھا تو اچانک ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ ان کے ساتھی نے اس کا سبب پوچھا تو وہ اس کو ٹالنے لگے۔ آخر اصرار کے بعد انھوں نے بتایا کہ دو برس پہلے میں اپنے آٹھ سال کے بچے کے ساتھ یہاں آیا تھا، بچے نے اس دکان سے ایک کھلونا خریدنے کے لیے کہا۔ اگلی صبح کو بچہ فیملی کے ساتھ ایک اور شہر میں جانے والا تھا۔ میں نے کہا کہ ابھی تو تم سفر پر جارہے ہو، جب تم واپس آؤ گے تو یہ کھلونا میں تمھارے لیے خرید دوں گا۔ مگر واپسی میں کار کا ایکسی ڈنٹ ہوا اور میرا آٹھ سال کا بچہ سڑک پر ہی مر گیا۔ اس دکان پر کھلونے کو دیکھ کر مجھے اپنے بچے کی بات یاد آئی۔ میرا دل تڑپ اٹھا اور میں رونے لگا۔ مذکورہ شخص کے لیے وہ کھلونا اپنے بیٹے کی یاد کے لیے ایک پوائنٹ آف ریفرنس (point of reference) بن گیا، وہ اپنے بچے کو یاد کر کے رونے لگا۔ اسی طرح انسان کا اپنا وجود اور اس کے آس پاس کی ساری دنیا خدا کی یاد کے لیے ایک پوائنٹ آف ریفرنس ہے۔ تخلیق کا ہر واقعہ اپنے خالق کی یاد دلارہا ہے۔ اگر لوگ خدا کے معاملے میں اُسی طرح سنجیدہ ہوں، جیسا کہ وہ اپنی اولاد کے لیے ہوتے ہیں، تو دنیا کی ہر چیز ان کے لیے خدا کی یاد دہانی بن جائے۔ ہر چیز ان کی ربانی سوچ کو جگائے۔ وہ ہر چیز میں خدا کی جھلک دیکھیں اور ہر چیز میں یاد الہی کی غذا لینے لگیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader