محبت الہی
Urdu book, p. 440
By Maulana Wahiduddin Khan
جذبات پرستش انسان اپنے پیدائشی مزاج کے اعتبار سے ایک پرستش پسند مخلوق ہے۔ انسان چاہتا ہے کہ کوئی اس کا معبود ہو جس کی وہ پرستش کرے۔ کوئی ہو جس کو وہ اپنی تو جہات کا مرکز بنا سکے ۔ یہی وجہ ہے کہ تمام قومیں ہیرو پرست ہوتی ہیں۔ وہ اپنے اکابر کو اپنے خدا پرستارانہ جذبات کا مرکز بنا لیتی ہیں ۔ ہیروز وں سے غیر معمولی لگاؤ در حقیقت اس جذبہ عبودیت کا غلط استعمال ہے جو اللہ نے ہر آدمی کے اندر پیدائشی طور پر رکھ دیا ہے۔ جس طرح ہر آدمی کو پیاس لگتی ہے اور وہ پانی پینے پر مجبور ہوتا ہے۔ اسی طرح ہر آدمی خود اپنے اندرونی جذبے کے تحت مجبور ہے کہ وہ کسی کو معبود بنا کر اس کی پرستش کرے ۔ کوئی بھی شخص اس احساس سے خالی نہیں ہو سکتا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں آدمی کا امتحان لیا جا رہا ہے۔ جو لوگ اپنے جذبات پرستش کا مرکز ایک خدا کو بنا ئیں وہ سچے پرستار ہیں، وہ امتحان میں کامیاب ہو گئے۔ جو لوگ اپنے جذبات پرستش کا مرکز کسی غیر خدا کو بنالیں وہ جھوٹے پرستار ہیں، وہ امتحان میں ناکام ہو گئے ۔ کچھ لوگ ہیں جو اپنی فطرت میں چھپے ہوئے جذبات پرستش کا مرکز بتوں کو یا مظاہر فطرت کو بناتے ہیں ۔ کچھ اور لوگ ہیں جو اپنے قومی ہیروز وں کو اپنا معبود بنا لیتے ہیں اور اپنے جذبات پرستش ان کے لیے خاص کر دیتے ہیں۔ یہ سب شرک ہے۔ اور شرک کو خدا کبھی قبول نہیں کرے گا۔ اسی طرح ایک اور طبقہ ہے جو اپنے اکابر سے وہ محبت کرنے لگتا ہے جو خدا سے ہونی چاہیے ۔ اپنے اکابر کی باتوں کو وہ اہمیت دینے لگتا ہے جو خدا کی باتوں کو دینا چاہیے۔ جو اپنے اکابر پر کسی بھی قسم کی تنقید سننے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ اکابر کی تقدیس و تعظیم ہی اس کا سرمایہ حیات ہوتی ہے۔ یہ بھی بلا شبہ وہی چیز ہے جس کو قرآن میں ، غیر اللہ کو اپنا معبود بنانا کہا گیا ہے (التوبہ، 9:31)۔ حقیقی موحد وہ ہے جس کے جذبات کا مرکز آخری حد تک صرف خدا بن جائے۔ جو انسانی شخصیتوں میں اٹکا ہوا نہ ہو۔ ایسا آدمی اکابر کے خلاف تنقید سن کر کبھی بھٹ کے گا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader