Urdu book · کتابِ معرفت

محبت الہی

Urdu book, p. 448

By Maulana Wahiduddin Khan

اللہ کے ساتھ عربی زبان میں بہت سے مضامین اور کتابیں چھپی ہیں جن کا ٹائٹل اس قسم کا ہوتا ہے ایک ساعت فلاں کے ساتھ (ساعۃ مع فلان)۔ اس طرح کا ٹائٹل بظاہر درست ہے، مگر عجیب بات یہ ہے کہ کوئی لکھنے والا اس طرح کے ٹائٹل کے ساتھ کیوں نہیں لکھتا کہ۔ ایک ساعت اللہ کے ساتھ (ساعۃ مع اللہ)۔ یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے لکھنے والوں کو انسان کی صحبت تو ملی، مگر اُن کو اللہ کی صحبت نہیں ملی۔ حدیث میں آیا ہے کہ مومن پر ایسا لمحہ گزرنا چاہیے، جب کہ وہ اپنے رب سے سرگوشی کر رہا ہو: ساعۃ يناجي فيها ربّه (صحیح ابن حبان، حدیث نمبر 361)۔ سرگوشی (whisper) ایک ایسے تجربے کا نام ہے جب کہ انسان اپنے آپ کو اپنے رب سے قریب پاتا ہے، اتنا زیادہ قریب کہ وہ سرگوشی کے انداز میں اپنے رب سے کلام کرنے لگتا ہے۔ قرآن سے ثابت ہے کہ خدا اپنے بندے سے بہت قریب ہے (البقرۃ، 2:286)۔ اسی طرح قرآن میں ہے کہ سجدہ کے وقت انسان، خدا سے قربت کا تجربہ کرتا ہے (العلق، 96:19)۔ یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ جب ایک انسان اپنے رب کو دریافت کرتا ہے، وہ آفاق و انفس میں گہرائی کے ساتھ غور کرتا ہے تو بار بار وہ محسوس کرتا ہے کہ وہ اپنے رب کے انتہائی قریب پہنچ گیا ہے۔ اُس وقت اس کا دل تڑپ اٹھتا ہے، اس کی آنکھیں اشک بار ہو جاتی ہیں، وہ محسوس کرتا ہے کہ وہ ربانی فیضان (divine inspiration) کی سطح پر خدا سے جڑ گیا ہے۔ اُس وقت آدمی کی زبان سے غیر متوقع طور پر اعلیٰ ربانی کلمات ادا ہونے لگتے ہیں، اس کا پورا وجود ایک روحانی تجربے میں غرق ہو جاتا ہے۔ وہ دیکھے بغیر خدا کو دیکھنے لگتا ہے، وہ ہم کلام ہوئے بغیر خدا سے بات کرنے لگتا ہے، بظاہر دوری کے باوجود وہ خدا سے آخری حد تک قریب ہو جاتا ہے ۔ اس دنیا میں خدا کی قربت یہ ہے کہ کوئی شخص روحانی سطح پر اس طرح اپنے رب کو پالے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page