خدا کا پڑوس
Urdu book, p. 474
By Maulana Wahiduddin Khan
اہل جنت کے دو گروہ قرآن کی سورہ الواقعہ(27-56:10) سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل جنت کے دو بڑے طبقے ہوں گے، ایک، السابقون (سبقت کرنے والے) اور دوسرے، اصحاب الیمین (دائیں طرف والے)۔ پہلے گروہ کے لیے آخرت میں شاہانہ انعامات ہیں، اور دوسرے گروہ کے لیے عام انعامات۔ درجہ اول اور درجہ دوم میں، یہ فرق کس بنیاد پر ہوگا۔ قرآن کے مطابق، اس کی وجہ فتح (الحدید، 57:10) ہے۔ جو لوگ فتح سے پہلے کے دور میں حق کو مانیں اور اس کا ساتھ دیں، وہ السابقون کا درجہ پائیں گے۔ اس کے برعکس، جو لوگ فتح کے بعد کے دور میں حق کو قبول کریں اور اس کے ساتھی بنیں، وہ اصحاب الیمین کے گروہ میں جگہ پائیں گے۔ یہ محض زمانے کا فرق نہیں، بلکہ نوعیت ایمان کا فرق ہے۔ اصل یہ ہے کہ حق جب ظاہر ہوتا ہے تو ابتدا ء وہ مجرد صورت میں ہوتا ہے۔ اس کی حیثیت ایک ایسی نظری حقیقت کی ہوتی ہے جس کی پشت پر دلائل کی طاقت کے سوا کوئی اور طاقت موجود نہ ہو۔ بعد کے زمانے میں جب حق کی دعوت فتح وغلبہ کے مرحلے میں داخل ہو جاتی ہے تو اُس وقت حق کی حیثیت صرف نظری صداقت کی نہیں ہوتی، اب ہر آنکھ والے کو حق ایک ٹھوس واقعہ کی صورت میں دکھائی دینے لگتا ہے۔ پہلے دور میں حق کو لفظی دلیل سے پہچاننا تھا، دوسرے دور میں حق کی اہمیت کو منوانے کے لیے سماجی واقعات موجود ہوتے ہیں۔ پہلے دور میں حق کو مانتے ہی آدمی اپنے ماحول کے اندر اجنبی بن جاتا تھا، دوسرے دور میں حق کے ساتھ وابستہ ہونا آدمی کو عزت اور مقبولیت کا مقام دیتا ہے۔ پہلے دور میں حق کا ساتھ دینے والا صرف کھوتا ہے، دوسرے دور میں حق کا ساتھ مزید پانے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ پہلے دور میں بنیاد کے نیچے دفن ہونا پڑتا تھا، دوسرے دور میں گنبد کی بلندیاں مل جاتی ہیں جن کے اوپر آدمی کھڑا ہو سکے۔ معرفت کا یہی وہ فرق ہے جس کی بنا پر پہلے مرحلے میں حق کا ساتھ دینے والے کے لیے درجہ اول کا مقام ہے، اور دوسرے مرحلے میں حق کا ساتھ دینے والے کے لیے درجہ ثانی کا مقام۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader