Urdu book · کتابِ معرفت

خدا کا پڑوس

Urdu book, p. 476

By Maulana Wahiduddin Khan

سب سے بڑی خوشی

ایک حدیث قدسی الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ صحیحین میں آئی ہے۔ صحیح مسلم کے الفاظ یہ ہیں: إن الله يقول لأهل الجنة: يا أهل الجنة فيقولون: لبيك ربنا وسعديك والخير في يديك فيقول: هل رضيتم؟ فيقولون: وما لنا لا نرضى؟ يا رب وقد أعطيتنا ما لم تعط أحدا من خلقك، فيقول: ألا أعطيكم أفضل من ذلك؟ فيقولون: يا رب وأي شيء أفضل من ذلك؟ فيقول: أحل عليكم رضواني، فلا أسخط عليكم بعده أبدا (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2829)۔ یعنی اللہ تعالیٰ اہل جنت سے کہے گا کہ اے اہل جنت، وہ کہیں گے: اے ہمارے رب، ہم حاضر ہیں، سعادت مندی تیری طرف سے ہے، تمام بھلائی تیرے ہاتھ میں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تم خوش ہو۔ وہ کہیں گے کہ اے ہمارے رب، ہم کیوں نہ راضی ہوں، حالاں کہ تو نے ہم کو وہ چیز عطا فرمائی جو تو نے مخلوقات میں سے کسی دوسرے کو نہیں دی۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا میں تم کو اس سے بھی زیادہ افضل چیز نہ دوں۔ وہ کہیں گے کہ اے ہمارے رب، وہ کیا چیز ہے جو اس سے افضل ہے۔ اللہ فرمائے گا: میں تمھارے لیے اپنی رضا کو واجب کرتا ہوں، اس کے بعد اب میں کبھی تم سے ناراض نہ ہوں گا۔ جنت بلاشبہ تمام نعمتوں کا مجموعہ ہے۔ جنت وہ جگہ ہے جہاں انسان کی تمام خواہشیں اور تمنائیں کامل درجے میں پوری ہوں گی۔ جو لوگ جنت میں داخل ہوں گے، وہ یہ محسوس کریں گے کہ اُنھیں تمام مسرتیں اپنی حقیقی صورت میں حاصل ہو گئیں۔ لیکن امکانی طور پر ایک اندیشہ اُن کے لیے پھر بھی موجود ہے، وہ یہ کہ جنت ان کو اللہ کے عطیہ کے طور پر ملی ہے، وہ خود اُس کے خالق نہیں ہیں۔ اللہ اگر چاہے تو جنت کو اُن سے چھین بھی سکتا ہے۔ مذکورہ حدیث اسی اندیشے کا جواب ہے۔ جب خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی ابدی رضا کا اعلان کر دیا جائے گا تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ جنت اب ہمیشہ کے لیے ان کی قیام گاہ بن چکی ہے، وہ ان سے کبھی چھینی جانے والی نہیں۔ یہ بلاشبہ سب سے بڑی خوشی جو اہل جنت کو حاصل ہوگی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page