Urdu book · کتابِ معرفت

خدا کا پڑوس

Urdu book, p. 493

By Maulana Wahiduddin Khan

جنت کی دنیا ایک صاحب نے کہا کہ جنت میں داخلے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کے اندر جنتی کردار پایا جاتا ہو۔ مگر مشاہدہ بتاتا ہے کہ ساری تاریخ میں بہت کم لوگ ایسے ہوئے ہیں جو جنتی کردار کے حامل ہوں۔ ایسی حالت میں جنت تو صرف ایک سونی جگہ ہوگی، نہ کہ رونقوں سے بھری ہوئی جگہ۔ میں نے کہا کہ جنت کی سب سے بڑی رونق خود خداوند ذوالجلال کی ذات ہے۔ خدا کے بارے میں قرآن میں آیا ہے کہ وہ آسمان اور زمین کا نور ہے (النور، 24:35)۔ یہ نور جنت میں بدرجۂ کمال موجود ہوگا۔ پوری جنت خدا کے نور سے بھری ہوئی ہوگی۔ جنت کے ہر عورت اور مرد کو خدا کی موجودگی کا مستقل احساس ہوگا۔ جنت میں ہم اس قابل ہوں گے کہ خدا کی موجودگی کو مسلسل طور پر محسوس کر سکیں: We will be able to feel continuously the presence of God. اس کے علاوہ، جنت میں خدا کے فرشتے بے شمار تعداد میں موجود ہوں گے۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں آنے والے پیغمبر جنت کے ممتاز افراد کی حیثیت سے وہاں موجود ہوں گے۔ اس کے علاوہ، پوری تاریخ میں پیدا ہونے والی تمام صالح عورتیں اور تمام صالح مرد وہاں اکٹھا کیے جائیں گے۔ اس طرح وہ بے شمار بچے وہاں بسائے جائیں گے جو معصومیت کی عمر میں مرگئے۔ یہ بچے جنت کی خصوصی رونق ہوں گے۔ غالباً انھیں کے بارے میں قرآن میں آیا ہے: وَيَطُوفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُخَلَّدُونَ إِذَا رَأَيْتَهُمْ حَسِبْتَهُمْ لُؤْلُؤاً مَنْثُوراً (76:19)۔ یعنی ان کے پاس پھر رہے ہوں گے ایسے بچے جو ہمیشہ بچے ہی رہیں گے، تم اُنھیں دیکھو تو سمجھو کہ موتی ہیں جو بکھیر دیئے گئے ہیں۔ اس جنت میں بہت زیادہ پر کیف سرگرمیاں موجود ہوں، وہ ایک انتہائی پر رونق جگہ ہوگی۔ چناں چہ قرآن میں جنت کے بارے میں یہ الفاظ آئے ہیں: إِنَّ أَصْحَابَ الْجَنَّةِ الْيَوْمَ فِي شُغُلٍ فَآكِهُونَ (36:55)۔ یعنی بیشک آج جنت والے اپنی دلچسپیوں میں مشغول ہوں گے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page