خدا کا پڑوس
Urdu book, p. 498
By Maulana Wahiduddin Khan
جنت کی قیمت جنت ابدی راحتوں کی دنیا ہے۔ وہ کون لوگ ہیں جو موت کے بعد اس قابل ٹھہریں گے کہ وہ جنت کی معیاری دنیا میں جگہ پائیں۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جنھوں نے موت سے پہلے کی زندگی میں، فکری اور عملی اعتبار سے، اپنے آپ کو جنت جیسی معیاری دنیا میں رہنے کا مستحق بنایا ہوگا۔ یہ جنت کا کم تر اندازہ ہے کہ کسی اور چیز کو جنت کی قیمت سمجھ لیا جائے۔ مثلاً یہ ماننا کہ کسی بزرگ کا دامن تھامنے سے جنت مل جائے گی، اسی طرح کسی گروہ سے وابستہ ہونا، کچھ رسمی اعمال کر لینا، کسی مقدس مقام کی زیارت کر لینا، دین کے نام سے کسی دھوم کا مظاہرہ کرنا، حمد اور نعت کے لفظی ترانے اسٹیج پر گانا، اور اد و وظائف میں مشغول رہنا، دین کے نام پر شان دار بلڈنگ بنانا، جلسے اور جلوس کے ہنگامے کھڑے کرنا، اسلام کو اپنے لیے فخر کی چیز بنا لینا، وغیرہ۔ اس قسم کی کسی چیز کا کوئی تعلق جنت سے نہیں، اس قسم کی کوئی بھی چیز آدمی کو ہر گز جنت میں لے جانے والی نہیں۔ جنت میں صرف وہ لوگ داخل کیے جائیں گے، جن کو قرآن میں تزکیہ یافتہ شخصیت (purified personality) کہا گیا ہے (طہ، 20:76)۔ جنتی شخصیت وہ ہے جو جنت کے تقاضوں کی نسبت سے ایک تیار شدہ شخصیت (prepared personality) ہو۔ شخصیت کی یہ تیاری اسی موجودہ دنیا میں ہوتی ہے۔ موجودہ دنیا میں مختلف قسم کے حالات اور تجربات کے دوران آدمی اپنے آپ کو پاکیزہ شخصیت بناتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو منفی جذبات سے بچا کر مثبت مزاج پر قائم رکھتا ہے۔ ناموافق حالات کے باوجود وہ اصول پسند بنا رہتا ہے، وہ انصاف کی روش سے کبھی نہیں ہٹتا۔ وہ اپنی خواہشوں پر کنٹرول کرتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو آزادی کے غلط استعمال سے بچاتا ہے۔ وہ کسی دباؤ کے بغیر دوسروں کا حق ادا کرتا ہے۔ وہ ہمیشہ سچ بولتا ہے۔ وہ دوسروں کے ساتھ کیے ہوئے وعدوں کو پورا کرتا ہے۔ نہ کوئی ناکامی اُس کو مایوس کرتی ہے اور نہ کوئی کامیابی اس کو سرکش بناتی ہے۔ یہی جنتی شخصیت ہے، اور ایسے ہی لوگ جنت کے باغوں میں جگہ پائیں گے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader