خدا کا پڑوس
Urdu book, p. 517
By Maulana Wahiduddin Khan
احساس ابدیت انسان کو اس کے پیدا کرنے والے نے احساس ابدیت (sense of eternity) کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ اس کے جینٹک کوڈ (genetic code) میں موت (death) کا اندراج نہیں۔ اپنی فطرت یا اپنے لاشعور کے اعتبار سے انسان اس احساس میں جیتا ہے کہ پیدا ہونے کے بعد اب وہ ابدی ہو چکا ہے۔ اُس پر موت وارد ہونے والی نہیں۔ حقیقت واقعہ یہ ہے کہ ہر پیدا ہونے والے انسان کو ایک دن مرنا ہے، مگر انسان کا داخلی احساس یہ ہوتا ہے کہ میں اپنی تخلیق کے اعتبار سے ایک ابدی وجود کی حیثیت رکھتا ہوں۔ یہ دو طرفہ تقاضا ہر عورت اور ہر مرد کو ایک بے حد نازک امتحان میں مبتلا کر دیتا ہے، یعنی احساس ابدیت کے باوجود احساس موت میں جینا۔ اپنے آپ کو ابدی مخلوق (eternal being) سمجھتے ہوئے اس یقین میں جینا کہ میں لازماً ایک دن مر جاؤں گا، موجودہ دنیا میں ہمیشہ کے لیے رہنا میرے لیے مقدر نہیں۔ یہ احساس ابدیت ایک اعتبار سے ایک عظیم نعمت ہے۔ یہ احساس آدمی کو یہ یقین عطا کرتا ہے کہ وہ کائنات کی دوسری چیزوں کے برعکس، ایک دوامی وجود ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ اس کو یہ کرنا ہے کہ وہ موت اور محاسبہ آخرت کو مسلسل طور پر یاد رکھے۔ اس دوطرفہ تقاضے میں جینا بلا شبہ سب سے زیادہ سخت امتحان ہے۔ جنت میں وہ انسان داخل ہوگا جو اس نازک امتحان میں پورا اترے۔ اگر آدمی با شعور ہو تو یہ دوطرفہ احساس اس کے لیے اس کی شخصیت کے ارتقا کا سب سے بڑا ذریعہ بن جائے گا۔ اپنی ابدیت کو سوچ کر وہ خدا کا بے حد شکر گزار بن جائے گا کہ اس کے خالق نے اس کو ابدیت کی عظیم نعمت عطا فرمائی۔ دوسری طرف، موت اور محاسبہ آخرت کا معاملہ مسلسل طور پر اس کی اصلاح کا سبب بن رہا ہے۔ ایک طرف وہ خدا کا شکر گزار بندہ ہوگا اور دوسری طرف خدا کے خوف میں جینے والا بندہ بھی۔ روحانی تزکیہ یا تعمیر شخصیت کا اس سے بڑا اور کوئی ذریعہ نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader