Urdu book · کتابِ معرفت

خدا کا پڑوس

Urdu book, p. 528

By Maulana Wahiduddin Khan

ڈوائن سوئیلائزیشن قرآن میں بتایا گیا ہے — خدا انھیں جنت میں داخل کرے گا جس کی اس نے انھیں پہچان کرا دی ہے (سورۃ محمد ، 47: 6)۔ اس پہچان کا ذریعہ کیا ہے۔ یہ دراصل موجودہ انسانی تہذیب (human civilization) ہے۔ اس تہذیب کے ظہور میں آنے سے پہلے انسان زمین پر رہتا تھا ، لیکن انسان کی زندگی میں جنت جیسی کشش موجود نہ تھی۔ حتیٰ کہ اس زمانے میں بادشاہوں کے محل بھی پتھروں کے ڈھیر کی مانند ہوتے تھے۔ موجودہ تہذیب نے پہلی بار انسانی زندگی کو راحت اور خوب صورتی عطا کی۔ اس طرح وہ جنت کا ایک بعید تعارف بن گئی۔ مگر مختلف محدودیتوں (limitations) کی وجہ سے یہ تعارف جنت اصل جنت کا صرف جزئی تعارف تھی۔ موجودہ جنت کیسے بنی۔ یہ دراصل سائنٹسٹ کمیونٹی تھی جس نے اپنی دریافتوں سے اس جنت کی تعمیر کو ممکن بنایا۔ یہ موجودہ دنیا کی تعارفی جنت تھی۔ اگلے دور حیات میں اصل جنت کی تعمیر ہوگی۔ موجودہ دنیا اگر انسانی جنت (human paradise) تھی تو آخرت کی جنت خدائی جنت (divine paradise) ہوگی۔ انسانی جنت کو سائنٹسٹ کمیونٹی (scientist community) نے بنایا، اور خدائی جنت کو عارف کمیونٹی (realized community) فرشتوں کی مدد سے بنائے گی۔ موجودہ دنیا اسی قسم کے عارفین کی تربیت گاہ ہے۔ ہر پیدا ہونے والا انسان اس تربیتی کورس سے لازماً گزرتا ہے۔ جو لوگ اس تربیتی کورس میں کامیاب نہ ہوسکیں، ان کو اگلے دور حیات میں رد کر دیا جائے گا۔ اور جو لوگ اس تربیتی کورس میں کامیاب رہیں، ان کو منتخب کر کے اُس عارف کمیونٹی کی تشکیل کی جائے گی جو اگلے دور حیات میں پرفیکٹ (perfect paradise) کی تعمیر کرے گی۔ اس جنت میں وہ تمام سرگرمیاں ہوں گی جو موجودہ دنیا میں پائی جاتی ہیں، مگر دونوں میں یہ فرق ہوگا کہ موجودہ دنیا کی انسانی سرگرمیاں یہاں کے محدود ماحول میں انجام پاتی ہیں، جب کہ جنت میں یہ سرگرمیاں وہاں کے لامحدود ربانی ماحول میں انجام پائیں گی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page